Darya hai abbas ka
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Hazrat Abbas (a.s) recited by Mir Sajjad Mir
عباس علمدار علمدار حسینی
ہٹ جاؤ شامیوں ہٹ جاؤ کوفیوں
میں ابن مرتظی ہوں میرے نام ہے عباس
ساحل پہ آمد خلاف بو تراب ہے
دہشت سے موج موج کا دل آب آب ہے
کس پہر کا جلال غضب کا عتاب ہے
گیٹی کو زلزلہ ہے کہ مٹی خراب ہے
روح الامیں کو خوف سے وسواس آتے ہیں
وسواس کیوں نہ آے کہ عباس آتے ہیں
یہ دریا ہے عباس کا یہ دریا ہے عباس کا
خود پانی صداییں دیتا ہے ہر خطرہ ہے عباس کا
یہ دریا دریا دریا ہے عباس کا
بھٹکے نہ کوئی اب ساحل پر یہ سارا علاقہ ہے میرا
اے غاصب حق زہرا سنو یہ پانی مہر ہے زہرا کا
میں تیسرا بیٹا ہوں ان کا یہ ورثہ ہے عباس کا
یہ دریا دریا دریا ہے عباس کا
یہ ہے عباس کا۔۔۔
اے شامیوں تم میں ہے ہی نہیں عباس سے لڑنے کی ہمت
اس دریا میں ہی ڈوب مرو باقی ہے اگر تھوڑی غیرت
اٹھارہ لاکھ نگاہوں میں کیوں خطرہ ہے عباس کا
یہ دریا دریا دریا ہے عباس کا
یہ ہے عباس کا۔۔۔
نعرہ کیا وہ روکنے والے کہاں گےء
تیغیں وہ کس طرف ہے وہ بھالے کہاں گےء
لے کر خط شکست رسالہ کہاں گےء
شمر و عمر کی گود کے پالے کہاں گےء
زندہ ابھی ہے یا پسر سعد مر گیا
خالی پڑا ہے دشت یہ خولی کدھر گیا
ہٹ جاؤ شامیوں ہٹ جاؤ کوفیوں
میں ابن مرتظی ہوں میرا نام ہے عباس
یہ ہے عباس کا۔۔۔
شہ ہاں تو کہے میں حاکم کو اس کے ہی محل میں ماروں گا
اے شامیوں شام سے پہلے میں اس شام پہ قبضہ کر لوں گا
یہ بات نہیں افسانوں کی یہ دعوہ ہے عباس کا
یہ دریا دریا دریا ہے عباس کا
یہ ہے عباس کا۔۔۔
عباس عطاعت میں ہر دم پابند ہے اپنے آقا کا
پہلے جو ہٹا تھا دریا سے وہ حکم تھا میرے آقا کا
اب ہٹنا پڑے گا تم سب کو یہ رستہ ہے عباس کا
یہ ہے عباس کا۔۔۔
او شمر اپنی فوج کا اندھیر دیکھ لے
ایک دم میں بسملوں کے ہوے ڈھیر دیکھ لے
بھاگے ہیں جس سے شیر وہ شمشیر دیکھ لے
او بے خبر ترای پہ ہے شیر دیکھ لے
لڑتے ہیں یوں ہی زبر جو آتے ہیں بات پر
اب حشر تک ہے شیر کا قبضہ فرات پر
یہ ہے عباس کا۔۔۔
تلوار تو باہر آنے دو تم سب کی میں جرأت دیکھوں گا
ہاں کس کا ہے دریا ساحل پر جس دم میں آ کر پوچھوں گا
خود تھوڑی دیر میں بولو گے عباس کا ہے عباس کا
یہ دریا دریا دریا ہے عباس کا
یہ ہے عباس کا۔۔۔
میں کھل کے اگر حملہ کر دوں وہ خوں کا دریا دریا میں
میں تیغ یہاں پر کھینچوں گا اور شور اٹھے گا کوفہ میں
مسلم سے کہیں گے بابا بھی یہ حملہ ہے عباس کا
یہ ہے عباس کا۔۔۔
سقاے حسین سید و سردار نہ آمد
علمدار نہ آمد علمدار نہ آمد
اے اہلِ حرم میر و علمدار نہ آمد
علمدار نہ آمد علمدار نہ آمد
ناقے سے گرایا ہے خود کو یہ کہہ کے علی کی بیٹی نے
کلثوم سے بولی لگتا ہے عباس کھڑا ہے پہلے سے
یہ خوشبو ہے چھوٹے بھای کی یہ سایہ ہے عباس کا یا
یہ ہے عباس کا۔۔۔
سجاد کہا اس نے رو کر اے جان میری قاسم اٹھو
شہزادے ابھی تک پیاسے ہو عمو کی قسم پانی پیلو
سیراب ہو چی بھر کے بیٹا اب قبضہ ہے عباس کا
یہ دریا دریا دریا ہے عباس کا
یہ ہے عباس کا۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.