Bhai mar gaya zainab
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Hazrat Abbas (a.s) recited by Mir Sajjad Mir
رو کے شاہ کہتے تھے بھائی مر گیا زینب
جھک گئی کمر میری چھن گیا عصا زینب
ہم کو بھی اجازت دو ہم بھی جائیں دنیا سے
ہم کو اب نہیں جینا بھائی کون ہے مرا زینب
رو کے شاہ کہتے تھے۔۔۔
چاند جیسے چہرے پر زخم لگ گیا اسکے
جب وہ زیں سے گھوڑے کی منہ کے بل گرا زینب
رو کے شاہ کہتے تھے۔۔۔
لاشے کی طرح رکھ کر خیمے میں علم بولے
اب یہ ہی جنازہ ہے میرے شیر کا زینب
رو کے شاہ کہتے تھے۔۔۔
جس نے میرے ہاتھوں پر اپنی آنکھیں کھولی تھی
آج اسی کا گودی میں دم نکل گیا زینب
رو کے شاہ کہتے تھے۔۔۔
میں نے اپنے ہاتھوں سے اسکے ہاتھ اٹھائے ہیں
ٹکڑے ٹکڑے اعدا نے اسکو کر دیا زینب
رو کے شاہ کہتے تھے۔۔۔
رات بھر جو پہرے پر میرے ہوتا تھا بی بی
آج مجھ سے پہلے وہ رن میں سو گیا زینب
رو کے شاہ کہتے تھے۔۔۔
وہ جو سارے لاشوں کو رن سے لے کے آیا تھا
اس کا لاشہ مقتل سے میں نہ لا سکا زینب
رو کے شاہ کہتے تھے۔۔۔
یاد ہے تمہیں بی بی اک صدا پہ آتا تھا
آج ہم اٹھاتے تھے وہ نہیں اٹھا زینب
رو کے شاہ کہتے تھے۔۔۔
کیسے ہو بیاں سجاد شہ نے جب کہا روکر
زخم ہو گیا تازہ آج بابا کا زینب
رو کے شاہ کہتے تھے۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.