Haye shaam ki
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Shaam recited by Farhan Ali Waris
ہاے شام کی گلیاں آی ہے
نیزوں پہ شہیدوں کے سر ہیں
بیمار بھی چلتا جاتا ہے
زنجیر الجھ کر پیروں سے کہتی ہے
یہ غم کے ماروں سے
کچھ دیر میں پتھر برسیں گے
اس شہر کے بالا خانوں سے
سجاد کا دل گھبراتا ہے
ہاے شام کی گلیاں۔۔۔
بے گھر ہے مسافر بے چادر ہے
کتنی اذیت کا یہ سفر
بازو ہے بندھے ماں بہنوں کے
سر باپ چچا کے خوں میں تر
بیمار بہت شرماتا ہے
ہاے شام کی گلیاں۔۔۔
ایک رسی ہے اور بارہ گلے
یہ قافلہ آخر کیسے چلے
جلتی ہے زمیں کانٹوں سے بھری
رونے لگے پیروں کے چھالے
خوں زخموں سے رستا جاتا ہے
ہاے شام کی گلیاں۔۔۔
کوٹھوں پہ تماشائی ہے کھڑے
اور شام کے بام و در ہے سجے
امت ہے نبی کی چار طرف
پڑتی ہے نبی زادی خطبے
اور اشک فلک برساتا ہے
ہاے شام کی گلیاں۔۔۔
دربار کا ڈر نزدیک آیا
بازار ستم اب ختم ہوا
کچھ دیر اسیروں کو روکو
یہ حکم یزیدی ہے آیا
دربار سجایا جاتا ہے
ہاے شام کی گلیاں۔۔۔
دربار ستم کی آرائش
اور تخت لعیں کی زبایش
جب ہو چکی پوری تب جا کر
بد کار نے کی یہ فرمایش
لو جشن منایا جاتا ہے
ہاے شام کی گلیاں۔۔۔
با پردہ کنیزیں بیٹھی ہے
سیدانیاں ساری روتی ہیں
فضہ کو بنا کر جب پردہ
زہرا کی بیٹیاں چھپتی ہے
سجاد کو غش آ جاتا ہے
ہاے شام کی گلیاں۔۔۔
ظالم نے عجب یہ کام کیا
زینب کا اچانک نام لیا
گھبرا کے علی کی بیٹی نے
ہاتھوں سے جگر کو تھام لیا
عابد کو جلال آ جاتا ہے
ہاے شام کی گلیاں۔۔۔
زنجیر چھٹک کر ٹوٹ گیء
بیمار نے ایک انگڑائی جو لی
دربار ستم میں شور اٹھا
کیا آج نجف سے آے علی
یہ وقت قیامت آتا ہے
ہاے شام کی گلیاں۔۔۔
دربار سے جب زنداں میں گےء
سجاد پھپھی سے کہنے لگے
یہ کیسا اندھیرا زنداں ہے
یاں زندہ رہیں گے ہم کیسے
دل میرا ڈوبا جاتا ہے
ہاے شام کی گلیاں۔۔۔
زنداں میں سکینہ نے پوچھا
گھر جایینگے ہم کس دن بھیا
یا اور کوئی باقی ہے ستم
گھٹتا ہے یہاں تو دم میرا
اب سانس اکھڑتا جاتا ہے
ہاے شام کی گلیاں۔۔۔
ریحان فغاں تھی عابد کی
دیکھے نہ مصیبت ایسی کوئی
جو ہم نے مصیبت دیکھی ہے
دیکھی نہ مصیبت نے بھی کبھی
وہ وقت مجھے تڑپاتا ہے
ہاے شام کی گلیاں۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.