Haye khaak hai sar
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Shaam recited by Nasir Asghar Party
ہائے خاک ہے سر میں زینب ہے سفر میں
کب ہوگی رہا قید سے کب جائے گی گھر میں
تاریخ تیری جنگ کو دہراتی رہے گی
اصغر جو لڑی تو نے ننھی سی عمر میں
ہائے خاک ہے سر میں۔۔۔
اِک وقت تھا کوفہ کی شہزادی تھی زینب
کس حال میں آئی ہے یہ بابا کے شہر میں
ہائے خاک ہے سر میں۔۔۔
بکھرے ہوئے بالوں سے منہ ڈھانپ لو بی بی
ماحول شرابی ہے تیری راہ گزر میں
ہائے خاک ہے سر میں۔۔۔
جس پردے کا ضامن تھا عباسِ دلاور
ہے زخم اسی پردے کا عابد کے جگر میں
ہائے خاک ہے سر میں۔۔۔
تھے تن پہ پھٹے کپڑے اور کان بھی زخمی
عابد نے اتارا جو سکینہ کو قبر میں
ہائے خاک ہے سر میں۔۔۔
شبیر کے ماتم سے ہائے روکنے والو
زینب کی یہ سنت ہے مومن کی نظر میں
ہائے خاک ہے سر میں۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.