Ay dariya
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Hazrat Abbas (a.s) recited by Ali Zia Rizvi
پیاسے خیموں میں مسلسل ہے فغاں اے دریا
تو نے غازی کو چھپایا ہے کہاں اے دریا
کتنی حسرت سے تکے جاتے ہیں شہ کو عباس
جب سے گونجی علی اکبر کی اذاں اے دریا
---تو نے غازی کو چھپایا
---پیاسے خیموں میں
مشک پر تیر جو آیا تو یہ محسوس ہوا
جیسے سینے میں اتر آئے سناں اے دریا
---تو نے غازی کو چھپایا
---پیاسے خیموں میں
ہاتھ کٹنے پہ بھی عباس کے تیور ہیں وہی
شاہ بچ جائیں چلی جائے یہ جاں اے دریا
---تو نے غازی کو چھپایا
---پیاسے خیموں میں
جانے کب سے در خیمہ پہ کھڑے ہیں بچے
سوکھے ہونٹوں پہ رکھے خشک زباں اے دریا
---تو نے غازی کو چھپایا
---پیاسے خیموں میں
نوک نیزہ سے اتاری گئی زینب کی ردا
سو گیا خاک پہ جب شیر جواں اے دریا
---تو نے غازی کو چھپایا
---پیاسے خیموں میں
تیرے ساحل پہ کبھی شاہ کے مقتل میں کبھی
روتی پھرتی ہے مسلسل کوئی ماں اے دریا
---تو نے غازی کو چھپایا
---پیاسے خیموں میں
ہائے جز شام غریباں نہیں کوئی شاہد
رو کے کہتا ہے یہ خیموں کا دھواں اے دریا
---تو نے غازی کو چھپایا
---پیاسے خیموں میں
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.