Aur pyason ki aas
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Hazrat Abbas (a.s) recited by Irfan Haider
آسماں دیکھ رہا تھا
سقا کوئی فرات پہ آیا تھا تشنہ لب
مشکیزہ بھر کے جانبِ خیمہ چلا وہ جب
برسے وہ تیر چھِد گئی مشکِ سکینہ جب
رویا علم فرات وفا مشک اور سب
گونجی مقتل میں شاہِ دیں کی صدا
قتل دریا پہ علمدار ہوا
اور پیاسوں کی آس ٹوٹ گئی
آیا مقتل سے علم خوں میں بھرا
اور پیاسوں کی آس۔۔۔
دن ڈھلا شامِ غریباں کے اندھیرے چھائے
بس سکینہ نے یہی رو کے کہا
اور پیاسوں کی آس ۔۔۔
قتل دریا پہ۔۔۔
اب میرے سر سے ردا جائے گی زینب نے کہا
رو دیئے سُن کے شاہِ کرب و بلا
اور پیاسوں کی آس ۔۔۔
قتل دریا پہ۔۔۔
تیرے عموں تو تیری پیاس پہ قربان ہوئے
شِہ نے یہ بالی سکینہ سے کہا
اور پیاسوں کی آس ۔۔۔
قتل دریا پہ۔۔۔
ہاتھ میں سوکھے ہوئے کُوزے لیے بیٹھے تھے
مرثیہ پیاس کا مولا سے سُنا
اور پیاسوں کی آس ۔۔۔
قتل دریا پہ۔۔۔
خونِ عباس جو پرچم سے ٹپکتے دیکھا
دُخترِ شاہ کا دل ڈوب گیا
اور پیاسوں کی آس ۔۔۔
قتل دریا پہ۔۔۔
رو کے کلثوم سے فضہ نے کہا شہزادی
تیری چادر کا محافظ بھی گیا
اور پیاسوں کی آس ۔۔۔
قتل دریا پہ۔۔۔
دونوں ہاتھوں سے کمر تھامے ہوئے شِہ نے کہا
بُجھ گیا تیری اُمیدوں کا دیا
اور پیاسوں کی آس ۔۔۔
قتل دریا پہ۔۔۔
العتش کہہ کے جو روتے تھے وہ خاموش ہوئے
چلائی ماحول پہ ماتم کی فضا
اور پیاسوں کی آس ۔۔۔
قتل دریا پہ۔۔۔
روئے سادات تو دریا کا کنارا رویا
زندگی روئی کہیں روئی قضا
اور پیاسوں کی آس ۔۔۔
قتل دریا پہ۔۔۔
یہ صدا مظہر و عرفان بنی ہے نوحہ
قتل دریا پہ علمدار ہوا
اور پیاسوں کی آس ۔۔۔
قتل دریا پہ۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.