Asghare baysheer
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Hazrat Abbas (a.s) recited by Mir Hasan Mir
رورہی ہے سوچ کر ام البنین یہ آج بھی
اصغر بے شیر جیسی قبر ہے عباس کی
رشک کرتی تھی میں عکس حیدر کرار پر
پاؤں خط دیتے تھے اسکے بیٹھ کر رہوار پر
ہاے میرے شیر کی یہ کیسی حالت ہوگئی
---اصغر بے شیر جیسی
مرکے بھی اس نے نبھایا مجھ سے جو وعدہ کیا
اپنے بیٹے کی وفا پر فقر ہے مجھ کو بڑا
اب نہیں اصغر کی ماں سے کچھ مجھے شرمندگی
---اصغر بے شیر جیسی
باپ کے بدلے مسلمانوں نے بیٹے سے لےء
سر جدا ہے تن جدا بازو جدا ہیں شیر کے
آپکی تصویر ٹکڑے ہو گیی ہے یاعلی
---اصغر بے شیر جیسی
کون لڑ سکتا تھا اس سے کس میں تھا اتنا جگر
سنتی ہوں نو لاکھ نے مارا ہے اسکو گھیر کر
لاش بھی اسکی سلامت دشت میں رہنے نہ دی
---اصغر بے شیر جیسی
کیا قد و قامت تھی اس کی یہ اسے معلوم تھا
ایک گٹھڑی میں سمٹ کر کیسے قاسم آگیا
ام فروہ جانتی ہے کیا ہے میری بے کسی
---اصغر بے شیر جیسی
کب سماتا تھا میری چادر میں تو اے میرے لال
کر دیا ہے ظالموں نے یہ تیرے لاشے کا حال
ہے میرے سر کی ردا بھی تیری تربت سے بڑی
---اصغر بے شیر جیسی
کہ کے یا عباس کرتا ہے وہ آشکوں سے وضو
ڈرتی ہوں جاری نہ ہو پھر اسکی آنکھوں سے لہو
سامنے عابد کے یوں کہتی نہیں ہوں میں کبھی
---اصغر بے شیر جیسی
روکے کرتی ہے سلام انکو تکلم کربلا
فاطمہ زہرا سے ماں بیٹے نے کی ایسی وفا
مادر عباس کی تربت بھی ہےٹوٹی ہوئی
---اصغر بے شیر جیسی
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.