Alamdare lashkare
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Hazrat Abbas (a.s) recited by Irfan Hussain
عباس علمدار وفاؤں کا خدا ہے
حیدر کی تمنا ہے تو زہرا کی دعا ہے
اسلام کی شہ رگ میں ہے خون دل شبیر
سانسوں میں رواں پرچم غازی کی ہوا ہے
علمدار لشکر حسین
نام عباس ہے زہرا کی تمنا میں ہوں
شیر خالق کی دعاؤں کا نتیجہ میں ہوں
ہاشمی خون کی جرأت کا اساسہ میں ہوں
پیاس پانی کی بجھ جس سے وہ دریا میں ہوں
میں ہوں غیرت کا خدا
میں ہوں زہرا کی دعا
میں علمدار وفا
میں ہوں زینب کی ردا
ثانیء شیر خدا ہوں میں
علمدار ہوں میں
علمدار لشکر۔۔۔
فاطمہ زہرا کی دختر نے مجھے مانگا ہے
سیدہ بنت پیمبر نے مجھے مانگا ہے
کربلا کے لئے سرور نے مجھے مانگا ہے
رب سے ہر سجدے میں حیدر نے مجھے مانگا ہے
میں ہوں خالق کی عطا
میں علی کی ہوں دعا
میں علمدار وفا
میں سکینہ کا چچا
اپنی تخلیق میں اللہ کا شاہ کار ہوں میں
علمدار لشکر۔۔۔
اپنے قدموں میں زمانے کو جھکا سکتا ہوں
کربلا میں تمہیں خیبر میں دکھا سکتا ہوں
اپنے نیزے کو میں تلوار بنا سکتا ہوں
سب کو اک وار میں دنیا سے مٹا سکتا ہوں
میں بھی ہوں شیر خدا
حشر کردوں گا بپا
میں علمدار وفا
موت کی ڈر سے گھٹا
تم پکاروگے قد حیدر کرار ہوں میں
علمدار لشکر۔۔۔
کس میں جرأت ہے کہ روکے میرا رستہ کوئی
آج تک سامنے میرے نہیں ٹہرا کوئی
ہوگا فنار اگر سامنے آیا کوئی
آ نہیں سکتا قریب شہ والا کوئی
میں بھی ہوں شیر خدا
قوت شاہ ہدا
میں علمدار وفا
سب کو کر دوں گا فنا
کفر کی راہ میں ایک آہنی دیوار ہوں میں
علمدار لشکر۔۔۔
میں مٹا سکتا ہوں اک لمحے میں تم سب کا نشاں
ہاشمی خون ہے کیا تم پہ یہ کردوں گا عیاں
حکم دوں میں تو ابھی نہر قد آجائے یہاں
اذن شبیر اگر دے تو الٹ جائے جہاں
میں ہوں مرضیء خدا
لافتی کی ہوں دعا
میں علمدار وفا
میرے قدموں میں جہاں
اپنے مولا کی رضاوں کا طلبگار ہوں میں
علمدار لشکر۔۔۔
اے سکینہ تیرا غم زینب دلگیر کا غم
ماں کا غم بہنوں کا غم اصغر بے شیر کا غم
چادر زہرا کا غم چادر تطہیر کا غم
خوں رُلاتا ہے مجھے حضرت شبیر کا غم
العطش کی یہ صدا
مشک کا قلب چھدا
میں علمدار وفا
آنکھ میں تیر جفا
ہے یہ زنجیر الم جس میں گرفتار ہوں میں
علمدار لشکر۔۔۔
ہاے سکینہ یہ تیرا رونا رلاتا ہے مجھے
پیاس میں تیرا تڑپنا یہ ستاتا ہے مجھے
جنگ کرنے سے میرے مولا نے روکا ہے مجھے
حکم شبیر کی زنجیر نے باندھا ہے مجھے
میں بھی دکھلاتا وغا
کرتا دشمن کو فنا
میں علمدار وفا
تجھ پہ ہوتی نہ جفا
اے سکینہ بڑا مجبور ہوں لاچار ہوں میں
علمدار لشکر۔۔۔
ہے یہی نور علی حضرت غازی کی صدا
شاہ کے غم میں بچھاتے ہیں جو فرش عزا
نوحہ و مجلس ماتم میں جو رہتے ہیں صدا
دل میں آباد جو رکھتے ہیں غم کربوبلا
قلب وہ غم کی ضیا
باب حاجت ہو عطا
میں علمدار وفا
میں بھی ہوں ان کا کشا
ایسے سب لوگوں کا ہر گام میں مددگار ہوں میں
علمدار لشکر۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.