Alamdar kahan ho
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Hazrat Abbas (a.s) recited by Safdar Abbas
کرتی تھی بکا زینبِ غم خوار
علمدار کہاں ہو
بے پردہ حرم ہے سر بازار
علمدار کہاں ہو
جب سے مجھے درپیش ہوی تیری جدائی
تاریک نظر آنے لگی ساری خدائی
زینب ہے مصائب میں گرفتار
علمدار کہاں ہو
کرتی تھی بکا۔۔۔
مارا جو کبھی شمر ستمگر نے طمانچہ
معصوم سکینہ نے تیرا نام پکارا
بچی کو مدد ہے تیری درکار
علمدار کہاں ہو
کرتی تھی بکا۔۔۔
یثرب میں کبھی میرا قدم گھر سے نہ نکلا
بس تھی میری دنیا بنی ہاشم کا محلہ
اب میرا سفر ہے سر بازار
علمدار کہاں ہو
کرتی تھی بکا۔۔۔
بے پردہ سر شامحرم ہوتے ہیں تشہیر
روتا ہے لہو نوکِ سِناں پر سر شبیر
اے لال محمد کے مددگار
علمدار کہاں ہو
کرتی تھی بکا۔۔۔
ہوتے ہیں بڑے ظلم و ستم اہلِ حرم پر
درے کبھی کھاتے ہیں کبھی کھاتے ہیں پتھر
سادات پہ ہنستے ہیں ستمگر
علمدار کہاں ہو
کرتی تھی بکا۔۔۔
یہ آ گیء تقدیر کہاں آل عبا کی
یہ فوج جفا کار ہمیں کہتی ہے باغی
اس تنز کو سن کر ہوں دلافگار
علمدار کہاں ہو
کرتی تھی بکا۔۔۔
ہے ہاتھ رسن بستہ نہیں سر پہ رداییں
سادات بھلا بہر مدد کس کو بلاییں
ہے شام کا رستہ بڑا دشوار
علمدار کہاں ہو
کرتی تھی بکا۔۔۔
دیکھی نہیں جاتی میرے سجاد کی حالت
چلنے بھی نہیں دیتی اسے اسکی نقاہت
مر جاۓ نہ غم سے کہیں بیمار
علمدار کہاں ہو
کرتی تھی بکا۔۔۔
سبطین میں بھلا کیسے لکھوں شام کا منظر
جب شام کے بازار میں سیدانیاں صفدر
کہتی تھی یہ ہر بار
علمدار کہاں ہو
کرتی تھی بکا۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.