Alam abbas ka
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Hazrat Abbas (a.s) recited by Nadeem Sarwar
اے کربلا بتا اے علقمہ بتا
تنہا حسین دیکھ کر ہے تھے یہ ماجرا
آیا تھا کس طرح سے ترای پہ با وفا
اور کس طرح سے خون میں تر ہو کے رہ گیا
علم عباس کا علم عباس کا
یہ وہ علم ہے جس سے شہیدوں کی شان ہے
قربانیوں کا نام وفا کا نشان ہے
بچوں کی آبرو ہے سکینہ کی جان ہے
علم عباس کا۔۔۔
لہرا رہا ہے اس کا پھریرا ہواؤں میں
اس کی بلندیوں کا ہے چرچہ فضاؤں میں
سب کربلا ہے اس کے پھریرے کی چھاؤں میں
علم عباس کا۔۔۔
پھیلا ہوا ہے اس کو جو سایہ حسین تک
رستہ اسی نے سب کو دکھایا حسین تک
حر بھی اسی کو دیکھ کے آیا حسین تک
علم عباس کا۔۔۔
پیاسوں کا اس علم میں سفینہ بھی دیکھیےء
پنجے میں روشنی کا خزینہ بھی دیکھیےء
لپٹی ہوی ہے مشک سکینہ بھی دیکھیےء
علم عباس کا۔۔۔
دیکھ اس علم کے ساے میں یک جا ہے کون کون
قاسم ہے وحب کلبی و آبس عمیر و عون
اکبر سے خوبرو کہ برابر کھڑے ہیں جون
علم عباس کا۔۔۔
غازی کے خوں سے جو ملی ہے بقا اسے
حاصل یہ افتخار رہے گا صدا اسے
ہر دور میں اٹھاییں گے اہلِ عزا اسے
علم عباس کا۔۔۔
بیٹے بچھڑ گےء ہیں یہ دل کو ملال ہے
لیکن بہن کو بھای کے حق کا سوال ہے
زینب کو ہر دعا میں اسی کا خیال ہے
علم عباس کا۔۔۔
اے تشنہ لب وفاؤں کے دریا سلام لے
ہر اپنے سوگوار کا پیاسا سلام لے
اے کربلا کے دست بریدہ سلام لے
علم عباس کا۔۔۔
ہم کو جو یہ ترای میں بہر کرم ملا
تاریخ کو ہلال کہاں یہ ہشم ملا
زینب کی یہ دعا تھی کہ ایسا علم ملا
علم عباس کا۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.