Abbase alamdar hoo
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Hazrat Abbas (a.s) recited by Mir Rehan Abbas
ہاے غربت عباس
رخسار میرے خون سے غلطاں بھی پڑے ہیں
تپتی ہوئی ریتی سے منہ غازی کے آٹے ہیں
تقدیر سے لاچار ہوں بے دست ہوں آقا
عباس علمدار ہوں بے دست ہوں آقا
میں بے کس و لاچار ہوں بے دست ہوں آقا
---عباس علمدار ہوں
میں کس طرح آقا تیری تعظیم کو اٹھوں
زخمی ہیں میرے ہونٹ بھی لب کسطرح کھولوں
میں کیسا مددگار ہوں بے دست ہوں آقا
---عباس علمدار ہوں
جن پہ تھا بڑا ناز وہی ساتھ نہیں ہے
یہ وقت عجب ہے کہ میرے ہاتھ نہیں ہیں
میں ہوکے بھی لاچار ہوں بے دست ہوں آقا
---عباس علمدار ہوں
سنتا ہوں سکینہ کا گلا ہوگا رسن میں
ہے تاب کہاں اتنی بھلا غنچہ دہن میں
اس غم سے میں دوچار ہوں بے دست ہوں آقا
---عباس علمدار ہوں
میں کیسے کہوں کسطرح گھوڑے سے گرا ہوں
کروٹ بھی نہیں بدلی میں ویسے ہی پڑا ہوں
کتنا میں لب آر ہوں بے دست ہوں آقا
---عباس علمدار ہوں
شبیر نے عباس کا سر زانوں پہ رکھا
پھر بولے علمدار سے بھائی کہو بھیا
سن کر تیرا غمخوار ہوں بے دست ہوں آقا
---عباس علمدار ہوں
جب سر پہ لگا گرز تو پھر گر پڑے عباس
آقا میرے جب مشک چھدی مر گئے عباس
ہر غم سے گرفتار ہوں بے دست ہوں آقا
---عباس علمدار ہوں
ریحان و مبارک پہ عیاں کیسے یہ غم ہو
جب خون میں ڈوبا ہوا غازی کا الم ہو
غمخوار ہوں لاچار ہوں بے دست ہوں آقا
---عباس علمدار ہوں
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.