Fakhre maryam
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Shaam recited by Hasan Sadiq
زینب کجا بازار کجا
فخر مریم بے ردا ہے شام کا بازار ہے
سج رہا دربار ہے شام کا بازار ہے
بھیڑ ہے بازاریوں کی
سج رہا دربار ہے شام کا بازار ہے
فخر مریم بے ردا ہے۔۔۔
کیسے گزرے گی علی کی بیٹیاں بازار سے
سنگ باری ہو رہی ہے راستہ دشوار ہے
بھیڑ ہے بازاریوں کی سج رہا دربار ہے
فخر مریم بے ردا ہے۔۔۔
بس نہ چلتا تھا مگر عابد سے وہ کہتی رہی
مارتا ہے کیوں طمانچے مجھکو یہ بدکار ہے
بھیڑ ہے بازاریوں کی سج رہا دربار ہے
فخر مریم بے ردا ہے۔۔۔
ماں سوا سجاد کے میرے بچہ کوئی نہیں
یوں نہ مارو ظالموں بیمار ہے لاچار ہے
بھیڑ ہے بازاریوں کی سج رہا دربار ہے
فخر مریم بے ردا ہے۔۔۔
مسلہ یہ ہے کہ تم نے اسکو پہچانا نہیں
جس کو باغی کہہ رہے ہو خلد کا سردار ہے
بھیڑ ہے بازاریوں کی سج رہا دربار ہے
فخر مریم بے ردا ہے۔۔۔
رو برو بابا کے اپنے جو نہ بولی تھی امیر
تین دن دیتی رہی بازار میں نرو وار ہے
بھیڑ ہے بازاریوں کی سج رہا دربار ہے
فخر مریم بے ردا ہے۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.