Ek sar naize pe
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Shaam recited by Shadman Raza
ہاے شام بازار شام
بام و در پہ تھا چراغ بھیڑ خاص و عام کی
بھیڑ تھی کربوبلا میں فتح فوج شام کی
آگے آگے سر شہیدوں کے تھے نیزوں پہ رواں
چل رہی تھی پیچھے پیچھے سر جھکائے بی بیاں
ایک سر نیزے پہ ہے ایک گردن رہوار میں
بھاییوں کے ساتھ زینب آی ہے بازار میں
شمر تیرے ہاتھ ٹوٹے اے شقی یہ کیا کیا
جم گیا ہے خون سکینہ کے لب و رخسار میں
ایک سر نیزے پہ ہے۔۔۔
سر کھلے دیکھا نہ تھا آنگن میں جس کو باپ نے
سر کھلے لای گیء وہ شام کے بازار میں
ایک سر نیزے پہ ہے۔۔۔
سر علی اصغر کا ماں کے سامنے کاٹا گیا
کتنی بے رحمی تھی ہاے حرملہ کے وار میں
ایک سر نیزے پہ ہے۔۔۔
یا علی مشکل کشاء یہ وقت ہے امداد کا
یا علی بیٹی کھڑی ہے مجمعہء اغیار میں
ایک سر نیزے پہ ہے۔۔۔
زندگی بھر خوں رلاے گا یہ غم سجاد کو
سن رہی ہے سر کھلے زینب اذاں دربار میں
ایک سر نیزے پہ ہے۔۔۔
مارتا ہے شاہ دیں کے خشک ہونٹوں پر چھڑی
حاکم گستاخ بغض حیدر کرار میں
ایک سر نیزے پہ ہے۔۔۔
لاشہ نہ خیموں میں آیا اس لیےء عباس کا
حسرت مشک بریدہ تھی دل خود دار میں
ایک سر نیزے پہ ہے۔۔۔
جس پہ مظہر روے ہے مولا لہو چالیس سال
اس مصیبت کا بیاں ممکن نہیں اشعار میں
ایک سر نیزے پہ ہے۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.