Ek luta khafela safar
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Shaam recited by Others
ایک لٹا قافلہ سفر میں ہے
ہر قدم کربلا نظر میں ہے
قلب میں سب کے داغ اکبر ہے
اور نظروں میں زخم اکبر ہے
پاس شہ رگ کے کند خنجر ہے
خشک ہونٹوں پہ نام حیدر ہے
مقصد شاہ دیں نظر میں ہے
ایک لٹا قافلہ۔۔۔
قافلے میں بہت سے بچے تھے
گیارہویں کو جو کربلا سے چلے
راستوں میں گرے تھے اونٹوں سے
اس طرح سے کہ پھر کبھی نہ اٹھے
موت کی گونج رہ گذر میں ہے
ایک لٹا قافلہ۔۔۔
قافلے میں ہیں ایسی مائیں بھی
گود اجڑی چھینی ردائیں بھی
اب تو لب پر نہیں دعائیں بھی
سو گئیں تھک کے سب صدائیں بھی
بس دھواں ہی دھواں نظر میں ہے
ایک لٹا قافلہ۔۔۔
ایک بیمار قافلہ سالار
طوق و زنجیر کا اٹھائے بار
مائوں بہنوں کا ساتھ اور بازار
آخری مرحلہ بھرا دربار
صبر ہی صبر راہ بار میں ہے
ایک لٹا قافلہ۔۔۔
رونق قافلہ تھی ایک بچی
باپ کو یاد کر کے جب روتی
اس کو اس جرم کی سزا ملتی
ظلم اتنا ہوا کہ جی نہ سکی
اب وہ بچی اندھیرے گھر میں ہے
ایک لٹا قافلہ۔۔۔
ہو چکی جب تمام رسوائی
یعنی اسلام کی مسیحائی
قافلہ لے کے شہہ کی ماں جائی
لٹ کے نینوا کی سمت آئی
عصر عاشور چشم تر میں ہے
ایک لٹا قافلہ۔۔۔
جب مدینے کو جائے گا کنبہ
ہوں گی شاہد قیامتیں برپا
سوچتی ہے یہ زینب کبریٰ
کیسے صغرا کا سامنا ہو گا
شکل صغرا کی بس نظر میں ہے
ایک لٹا قافلہ۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.