Abbas bulata hai
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Hazrat Abbas (a.s) recited by Nadeem Sarwar
درگاہ علمدار
یا باب حوایج میری توقیر بڑھا دے
عباس کٹے ہاتھوں سے تقدیر بنا دے
زہرا سے وفاداری دنیا کو سکھاتا ہے
پرچم کا پھریرا یہ لہرا کے بتاتا ہے
عباس بلاتا ہے عباس بلاتا ہے
درگاہ ابوالفضل العباس کے ساے میں
تفریخ نہیں کوئی اپنے میں پراے میں
جو بھی یہاں آتا ہے خالی نہیں جاتا ہے
عباس بلاتا ہے۔۔۔
بے آس مریضوں کو دنیا کے غریبوں کو
مسکین و یتیموں کو روتی ہوی آنکھوں کو
ہر ٹوٹے ہوۓ دل کی یہ آس بندھاتا ہے
عباس بلاتا ہے۔۔۔
حیدر کے ملنگوں کی اس در پہ خطاریں ہے
حوروں کی فرشتوں کی اس در خطاریں ہیں
جس جس کا بلاوا ہے دوڑا چلا آتا ہے
عباس بلاتا ہے۔۔۔
وہ مولا قدم ہو یا شہباز کی نگری ہو
ماتم جہاں ہوتا ہو مجلس جہاں ہوتی ہو
دینے کے لئے پرسہ زہرا کو جو آتا ہے
عباس بلاتا ہے۔۔۔
مشہد ہو نجف ہو یا مکہ ہو بقیہ ہو
وہ کربوبلا ہو یا شہزادی کا روضہ ہو
دنیا کا کوی زایر جب بھی یہاں آتا ہے
عباس بلاتا ہے۔۔۔
بے چین ہے گھبرا کے خیمے میں ٹہلتا ہے
کیا جرم کیا ایسا کیوں ہاتھوں کو ملتا ہے
اے حر تیری قسمت کا تارہ یہ بتاتا ہے
عباس بلاتا ہے۔۔۔
گرتے ہوئے پرچم کو دیکھا شہ والا نے
زینب سے کہا رو کر عباس کے مولا نے
ہم جاتے ہیں دریا پر دل ڈوبتا جاتا ہے
عباس بلاتا ہے۔۔۔
تم سو گےء دریا پر دیکھو تو زرا اٹھ کر
شبیر کو گھیرے ہیں نو لاکھ کا یہ لشکر
جب تیر کوئی دل پر آقا تیرا کھاتا ہے
عباس بلاتا ہے۔۔۔
ریحان کی سرور کی مولا سے وفاداری ہے
عباس کے روضے پہ نوحہ لیےء آے ہیں
شہزادی سکینہ کا نوحہ جو سناتا ہے
عباس بلاتا ہے۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.