Abbas alam tera
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Hazrat Abbas (a.s) recited by Mir Bober Ali
شبیر کا پیغام سناتے ہی رہیں گے
عباس علم تیرا اٹھاتے ہی رہیں گے
دریا پہ چھدی مشک کٹے بازوے عباس
سینہ دھواں دھواں تھا سکینہ کی تھی وہ پیاس
ٹوٹی کمر حسین کی بہنیں ہوی بے آس
چھن جائے گی اب سر سے ردا ہوگیا احساس
روداد تشنگی کی سناتے ہی رہیں گے
عباس علم تیرا۔۔۔
لڑتے ہوئے دریا پہ گےء عون و محمد
بھاری تھے ہزاروں کے لئے عون و محمد
تاکید ماں کی یاد رکھے عون و محمد
پانی نہ پیےء قتل ہوےء عون ومحمد
جو ظلم ہوےء ان پہ بتاتے ہی رہیں گے
عباس علم تیرا۔۔۔
پامال رن میں ہوگیا جس دم حسن کا لال
اس غم کا قلب شاہ پہ کیونکر نہ ہو ملال
کہتی تھی ام فروہ کے اے رب ذوالجلال
اک رات کے دولہے کی ہوی لاش پاے مال
شب کی دولہن کا حال سناتے ہی رہیں گے
عباس علم تیرا۔۔۔
برچی لگی اکبر کو تڑپنے لگے شبیر
پہنچے جواں کی لاش پہ جب سرور دلگیر
زینب کی تھی صدا کے مٹی نانا کی تصویر
کہتی تھی کربلا میں میری لٹ گیء جاگیر
لیلیٰ پہ جو گزری وہ سناتے ہی رہیں گے
عباس علم تیرا۔۔۔
ہاتھوں پہ شہ کے چھد گیا معصوم کا گلا
روے تڑپ کے ارض و سماں آیا زلزلہ
زہرا و مصطفیٰ نے لحد سے یہ دی صدا
بچہ وہ چھ مہینے کا وہ تیر حرملہ
گزری جو بے زباں پہ سناتے ہی رہیں گے
عباس علم تیرا۔۔۔
سب قتل ہوے کوئی نہ تھا شہ کا مددگار
جب خشک گلا کاٹ چکا شمر بد اطوار
نیزے کی انی پر تھا سر سیدے ابرار
پیغمبر و زہرا و علی تھےجگر افگار
تصویر کربلا کی دکھاتے ہی رہیں گے
عباس علم تیرا۔۔۔
جلتی ہوئی ریتی پہ پڑا لاشہء بے سر
خیمے حرم کے جل گئے اور چھن گئی چادر
اٹھتے ہوئے شعلوں میں تھا بیمار کا بستر
کرتہ بھی سکینہ کا جلا چھن گےء گوہر
گزری جو یتیموں پہ سناتے ہی رہیں گے
عباس علم تیرا۔۔۔
یوں لٹ گیا غربت میں محمد کا گھرانہ
روتا ہے جسے سن کے ابھی تک یہ زمانہ
کیونکر نہ ببر لکھے کربل کا فسانہ
ملتا ہے نجف سے اسے لفظوں کا خزانہ
غم آل پیمبر کا مناتے ہی رہیں گے
عباس علم تیرا۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.