Ab wo lashkar hai
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Hazrat Abbas (a.s) recited by Afzal Mirza
سر جھکا کر شہ والا سے یہ غازی نے کہا
اب وہ لشکر ہے کہاں جس کا علمدار ہوں میں
اب تو تنہائی کے حملے ہیں غموں کے ڈیرے
سر کٹائے ہوئے سوتے ہیں سپاہی میرے
دم الجھتا ہے میرا قیدیء آزار ہوں میں
اب وہ لشکر ہے کہاں جس کا علمدار ہوں میں
سر جھکا کر۔۔۔
یہی احساس کیئے رہتا ہے مجھکو بے چین
میرے ہوتے ہوے پیاسے رہے طفلان حسین
اب یہ عالم ہے میرا جینے سے بیزار ہوں میں
اب وہ لشکر ہے کہاں جس کا علمدار ہوں میں
سر جھکا کر۔۔۔
اے میرے مالک و مختار شہنشاہِ امم
دو مجھے اذن تمہیں پیاسی سکینہ کی قسم
نہر کی سمت رواں ہونے کو تیار ہوں میں
اب وہ لشکر ہے کہاں جس کا علمدار ہوں میں
سر جھکا کر۔۔۔
جو تمنا ہے میرے دل میں اجاگر کر دوں
زندگی آپ کے بچوں پہ نچھاور کر دوں
روز اول سے فدائے شہ ابرار ہوں میں
اب وہ لشکر ہے کہاں جس کا علمدار ہوں میں
سر جھکا کر۔۔۔
بیکسی ضعف و نقاہت نہیں دیکھی جاتی
پیاسے بچوں کی یہ حالت نہیں دیکھی جاتی
جان دینے کے لئے بچوں پہ تیار ہوں میں
اب وہ لشکر ہے کہاں جس کا علمدار ہوں میں
سر جھکا کر۔۔۔
غم زدہ بیکس و مظلوم حزینہ کے لئے
جان جاتی ہے چلی جائے سکینہ کے لئے
آپ کا آپ کے بچوں کا وفادار ہوں میں
اب وہ لشکر ہے کہاں جس کا علمدار ہوں میں
سر جھکا کر۔۔۔
آپ کا اذن جو مل جائے شہنشاہِ حزیں
نہر خیمے میں نہ لاؤں تو میں عباس نہیں
جس کو مانگا تھا علی نے وہی جرار ہوں میں
اب وہ لشکر ہے کہاں جس کا علمدار ہوں میں
سر جھکا کر۔۔۔
خون رونے لگے اس وقت شہ نیک حزال
جس گھڑی شیر دلاور نے یہ فرمایا بلال
آپ پر جان فدا کرنے کا حقدار ہوں میں
اب وہ لشکر ہے کہاں جس کا علمدار ہوں میں
سر جھکا کر۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.