Chadar dikha dikha
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Shaam recited by Mir Hasan Mir
چادر نہ کفن ہے دور وطن
با پردہ بہن ہاتھوں میں رسن
عباس کی بہن کو شامی رلا رہے ہیں
چادر دکھا دکھا کے
رستہ بنا رہی ہے بنت علی کا فضہ
کانٹے ہٹا ہٹا کے
پردیس میں کسی پر ایسا نہ وقت آے
نا محرموں میں کوئی یوں بے ردا نہ جاے
کرتے ہیں یہ دعائیں اہلِ حرم کے بچے
جھولی اٹھا اٹھا کے
عباس کی بہن کو۔۔۔
بھای بہن کی آنکھیں نم ہوتی جا رہی ہے
بنت علی کی سانسیں کم ہوتی جا رہی ہے
خنجر چلا رہا ہے زینب کے دل پہ ظالم
خنجر دکھا دکھا کے
عباس کی بہن کو۔۔۔
اک بچی کہہ رہی ہے آؤ مدد کو بابا
دادی کی طرح میں بھی اب گیء ضعیفہ
زخمی کیا ہے پہلو ناقے سے ظالموں نے
مجھکو گرا گرا کے
عباس کی بہن کو۔۔۔
پردے میں بھی جو بی بی چلتی نہ تھی زیادہ
پردیس میں اب ان پر آیا ہے وقت کیسا
لاے ہیں شام والے ان شاہزادیوں کو
پیدل چلا چلا کے
عباس کی بہن کو۔۔۔
وہ شامیوں کے طعنے وہ مسکراتے چہرے
بے پردہ ساتھ اپنے بنت علی کو لے کے
سجاد کیسے بھولے اس بھیڑ سے گزرنا
نظریں جھکا جھکا کے
عباس کی بہن کو۔۔۔
جاتے ہیں جس طرف بھی اہلِ حرم کھلے سر
کھاتی ہے پہلے درہ کھاتی ہے پہلے پتھر
اپنے لہو میں تر ہے زہرا کی بیٹیوں کو
فضہ بچا بچا کے
عباس کی بہن کو۔۔۔
زخموں کی وہ تکلم تعداد جانتے ہیں
مہدی کو بھی خبر ہے سجاد جانتے ہیں
مارے ہیں کس نے کتنے حیدر کی لاڈلی کو
پتھر اٹھا اٹھا کے
عباس کی بہن کو۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.