Zakhme akbar pe
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Hazrat Ali Akbar (a.s) recited by Mir Hasan Mir
کہ رہے تھے یہ رو رو کے سرور
زخم اکبر پہ لیلا ردا ڈال دو
میرا فرزند ہے خون میں تر
زخم اکبر پہ…
زخم سے اس قدر خوں بہا ہے
خون اکبر سے تر کربلا ہے
نیزہء ظلم کی لوریوں سے
لاڈلا میرا سویا ہوا ہے
کوئی اس کو جگا دینا آ کر
زخم اکبر پہ...
ہاتھ میں خوں کی مہندی لگالو
بس تصور میں دولہا بنالو
تم نے مانی ہے جو زندگی بھر
منتیں آج ساری بڑھالو
غربتوں کا یہ سہرا سجا کر
زخم اکبر پہ...
میری بہنوں کو کب یہ پتہ ہے
وہ سمجھتی ہیں یہ سو رہا ہے
سرد ہے جسم ساکت ہے نبضیں
میرا کڑیل جواں مر چکا ہے
ہاتھ سینے سے اپنے ہٹا کر
زخم اکبر پہ...
غم کی کالی گھٹا چھا رہی ہے
مجھ کو یہ بات تڑپا رہی ہے
پردہ سیدانیوں کا لٹے گا
شام غربت قریب آ رہی ہے
پھر میسر کہاں ہوگی چادر
زخم اکبر پہ...
خاک میں مل گیا ہےوہ بانو
جسکو مٹی بھی لگنے نہ دی ہو
کتنے نازوں سے پالا تھا اس نے
زخم جلدی سے بی بی چھپا دو
بنت زہرا نے دیکھا یہ منظر
زخم اکبر پہ...
ہاے میری سکینہ کی غربت
کیسے دیکھے گی بھائی کی میت
دو جنازے نہ اٹھیں گے مجھ سے
وہ تو زندان کی ہے امانت
مر نہ جائے کہیں میری دختر
زخم اکبر پہ...
اسکو یہ کہکے دینا دلاسہ
تونے دیکھا نہ بھائی کا لاشہ
تیری جانب سے مادر نے لیکن
بے کفن کو کفن دے دیا تھا
نام بیمار صغرا کا لے کر
زخم اکبر پہ...
اے ہلال ایک محشر بپا تھا
خیمہء شاہ ماتم کدہ تھا
اشک آنکھوں سے پیہم رواں تھے
آل احمد میں شور بکا تھا
جب یہ کہتے تھے سبط پیمبر
زخم اکبر پہ...
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.