Zaeefi hussain ki
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Hazrat Ali Akbar (a.s) recited by Ali Mohd. Sultanpuri
نوجواں لال مر گیا
ہاے اکبر
کڑیل جوان بیٹے کا لاشہ ہے خاک پر
مقتل میں رو رہی ہے ضعیفی حسین کی
بینائی جا چکی ہے کچھ آتا نہیں نظر
مقتل میں رو رہی ہے ضعیفی حسین کی
ہاے مظلوم حسین
دو بھانجے حسین کے پہلے ہی مر گےء
قاسم بھی عمو جاں کو بے بس کر گےء
اب ہے جوان لال کا لاشہ لہو میں تر
مقتل میں رو رہی۔۔۔
ہاے فاطمہ کا لال
بوڑھے پدر کے سامنے فرزند مر گیا
سینہ غموں سے باپ کا غربت میں بھر گیا
شبیر ہاتھ ملتے ہیں اکبر کی لاش پر
مقتل میں رو رہی۔۔۔
ہاے حسین
دل پھٹ رہا ہے فاطمہ زہرا کے چین کا
کوئی نہیں ہے پوچھنے والا حسین کا
جلتی ہوئی زمیں ہے اور لاشہء پسر
مقتل میں رو رہی۔۔۔
مظلوم کربلا
توڑا گیا ضعیف کا پردیس میں عصا
لوٹا گیا حسین کی پیری کا آسرا
غربت میں مار ڈالا گیا نوجواں پسر
مقتل میں رو رہی۔۔۔
نوجواں لال
بیٹے کے غم سے چور ہے مظلوم کربلا
اور ہنس رہے ہیں باپ کی غربت پہ اشقیاء
کوئی زرا فرات پہ جا کر کرے خبر
مقتل میں رو رہی۔۔۔
ہاے غربت حسین
صدمہ بہت ہے بیکس و تنہا حسین کو
دیتا نہیں ہے کوئی سہارا حسین کو
بس نہر علقمہ کی طرف دیکھ دیکھ کر
مقتل میں رو رہی۔۔۔
ہاے مظلوم حسین
لاشہ ہے نوجواں کا کیسے اٹھاییں گے
لے کر کے خیمہ گاہ تلک کیسے جایینگے
عباس آؤ جلد ترای کو چھوڑ کر
مقتل میں رو رہی۔۔۔
ہاے فاطمہ کا لال
آنکھوں سے خون بہتا ہے اور سر پہ خاک ہے
مظلوم کربلا کا گریبان چاک ہے
اٹھارہ سال والے کا زانوں پہ رکھ کے سر
مقتل میں رو رہی۔۔۔
مظلوم کربلا
وایض جواں کی لاش ہے زہرا کا لال ہے
اب کون بوڑھے باپ کا پرساں نہال ہے
تھامے ہیں دونوں ہاتھوں سے ٹوٹی ہوئی کمر
مقتل میں رو رہی۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.