Yusufe laila akbar
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Hazrat Ali Akbar (a.s) recited by Ali Mohd. Sultanpuri
یوسف لیلیٰ اکبر
میری تمنا اکبر
اے میرے بیٹا اکبر
یوسف لیلیٰ اکبر میری تمنا اکبر
تو ہی بتا دے بیٹا کیسے جیےء گی مادر
لٹ گیء دنیا میری خاک ہوا میرا گھر
تو ہی بتا دے بیٹا کیسے جیےء گی مادر
داغ پسر کا لے کر جینا بھی کیسا جینا
بعد تیرے اے بیٹا خاک ہے میرا میرا جینا
سانسیں بھی اب چلتی ہیں بن کے جگر پہ خنجر
تو ہی بتا دے بیٹا کیسے جیےء گی مادر
یوسف لیلیٰ اکبر۔۔۔
عرضِ بلا نے لوٹی ساری کمای میری
مانگ بھی اجڑی میری کوک بھی اجڑی میری
عمر گزارے لیلیٰ کس کے سہارے دلبر
تو ہی بتا دے بیٹا کیسے جیےء گی مادر
یوسف لیلیٰ اکبر۔۔۔
کیا تھی تمنا میری اور ستم کیا دیکھا
نہ تیری دلہن دیکھی نہ تیرا سہرا دیکھا
مہندی لگاتی جس پر ہاتھ وہ ہے خون میں تر
تو ہی بتا دے بیٹا کیسے جیےء گی مادر
یوسف لیلیٰ اکبر۔۔۔
لطف مجھے جینے کا اس گھڑی آتا اکبر
تیرا پسر جب دادی کہہ کے بلاتا اکبر
دل کی تمناییں سب رہ گیء دل میں گھٹ کر
تو ہی بتا دے بیٹا کیسے جیےء گی مادر
یوسف لیلیٰ اکبر۔۔۔
دن یہ کسی دشمن کو بھی نہ خدا دکھلاے
رب نہ کرے جیتے جی ماں سے پسر چھن جائے
کیسے میں رکھ لوں اکبر اپنے جگر پہ پتھر
تو ہی بتا دے بیٹا کیسے جیےء گی مادر
یوسف لیلیٰ اکبر۔۔۔
اس کو بھلا کیسے ہو جینے کی چاہت بیٹا
جس نے جوان بیٹے کی دیکھی ہو میت بیٹا
یہ بھی کوی جینا ہے موت ہے اس سے بہتر
تو ہی بتا دے بیٹا کیسے جیےء گی مادر
یوسف لیلیٰ اکبر۔۔۔
حال ندیم اس ماں کا مجھ سے بیان کیا ہوگا
جیتی رہی وہ جب تک پڑھتی رہی یہ نوحہ
دور ہوا تو جب سے چین نہیں ہے پل بھر
تو ہی بتا دے بیٹا کیسے جیےء گی مادر
یوسف لیلیٰ اکبر۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.