Umme laila ne kaha
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Hazrat Ali Akbar (a.s) recited by Nasir Zaidi
اُمِ لیلیٰ نے کہا تشنہ دہن کچھ تو کہو
میرے اکبر میری جانِ چمن کچھ تو کہو
ماں تیری چاند سی صورت پہ ہو واری اکبر
مل گئی خاک میں دولت میری ساری اکبر
کیوں نہیں سُنتے ہو فریاد ہماری اکبر
کیا ابھی تک بھی ہے سینے میں چُبھن کچھ تو کہو
...اُمِ لیلیٰ نے
دیکھ تو بالی سکینہ ہے پریشان میرے لال
غش کے عالم میں پڑی ہے پھوپھی اماں میرے لال
آنکھیں تو کھولو تڑپتی ہے تیری ماں میرے لال
دیکھا تنہا ہے شہنشاہِ زمن کچھ تو کہو
...اُمِ لیلیٰ نے
بھائی سجاد ہے بیمار سنبھالو اکبر
شمر سے بالی سکینہ کو بچا لو اکبر
اپنے اصغر کو توسینے سے لگا لو اکبر
کیا بندھے گی میرے ہاتھون میں رسن کچھ تو کہو
...اُمِ لیلیٰ نے
میرا ارمان تھا سہرا تیرادیکھوں اکبر
بس تیرے بیاہ کے ارمان نکالوں اکبر
پہلے صغریٰ کو مدینے سے ُبلالوںاکبر
پھر بڑے شوق سے لائوںگی دلہن کچھ تو کہو
...اُمِ لیلیٰ نے
سنتی ہوں صغرا کاخط آیا ہے اُٹھو بیٹا
اتنی جلدی تمہیں بُلوایا ہے اُٹھو بیٹا
کُرتا تیرے لئے بھجوایا ہے اُٹھو بیٹا
دیکھو مر جائے گی بیمار بہن کچھ تو کہو
...اُمِ لیلیٰ نے
تیرے سینے میں جو برچھی کا یہ پھل ٹوٹا ہے
میری قسمت میرے خوابوں کا محل ٹوٹا ہے
تیرے بابا پہ تو اک کوہے اجل ٹوٹا ہے
اتنے خاموش ہیں کیوں شاہِ زمن کچھ تو کہو
...اُمِ لیلیٰ نے
اب تیرے خون کی مہندی میں لگالوں سر میں
پھر اسی حال سے فریاد کروں محشر میں
پھل تیرے سینے میں ہے زخم دلِ مادر میں
کیوں خزاں نظر ہوا میرا چمن کچھ تو کہو
...اُمِ لیلیٰ نے
دیکھ عرفان قیامت ہوئی مجلس میں بپا
شام سے آتی ہے زینب کے تڑپنے کی صدا
پوری تنظیمِ حسینی ہوئی مصروفِ بکا
شاہ کے لال کا زخمی ہے بدن کچھ تو کہو
...اُمِ لیلیٰ نے
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.