Sheh kehte thay
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Hazrat Ali Akbar (a.s) recited by Mir Rehan Abbas
شہ کہتے تھے یہ ہاتھ ہٹاؤ علی اکبر
برچھی کہاں کھای ہے دکھاؤ علی اکبر
افسوس ہمیں لاش تمہاری ہے اٹھانی
ہم تو یہ جو چاہا تھا میرے یوسف ثانی
ماں باپ کا تم لاشہ اٹھاؤ علی اکبر
شہ کہتے تھے۔۔۔
یہ زخم نہیں پہلوے مادر سے تو بڑھ کر
گھبراؤ نہ ہم صبر کریں گے میرے دلبر
بابا سے نہ سینے کو چھپاؤ علی اکبر
شہ کہتے تھے۔۔۔
بازو سے پکڑ کر ہمیں غربت یہاں لای
ہم نے جو اٹھانی تھی اذیت وہ اٹھای
شرمندہ نہ ہو نظریں ملاؤ علی اکبر
شہ کہتے تھے۔۔۔
جینے نہیں دے گی تمہیں ظالم کی یہ برچھی
مقتل میں تمہارے زرا بیمار بہن کی
کچھ دیر تو باتیں کریں آؤ علی اکبر
شہ کہتے تھے۔۔۔
جو دل میں تھے زینب کے وہ ارمان بڑھا لوں
اس خوں بھرے چہرے پہ میں سہرا تو سجا لوں
ٹہرو ابھی دنیا سے نہ جاؤ علی اکبر
شہ کہتے تھے۔۔۔
میں نے تو صدا دی تھی وہ اٹھتا نہیں گلفام
نزدیک ہے اے لال میرے عصر کا ہنگام
غازی کو اذاں دے کر بلاؤ علی اکبر
شہ کہتے تھے۔۔۔
تم ہچکیاں لیتے ہو نکلتا ہے میرا دم
بازو بھی شکستہ ہوے کیسے کروں ماتم
میں کیا کروں غربت میں بتاؤ علی اکبر
شہ کہتے تھے۔۔۔
شہ بولے تکلم یہ قیامت کی گھڑی تھی
دیکھا نہیں جاتا میری ماں کب سے کھڑی ہے
لینے وہ تمہیں آی ہے جاؤ علی اکبر
شہ کہتے تھے۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.