Berida shaam ke
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Shaam recited by Mir Rehan Abbas
بے ردا شام کے بازار میں جاتی ہے بہن
آنکھیں عباس کھلی مت رکھنا
بھای اس چاند سے چہرے کو نہ لگ جاے گرہن
آنکھیں عباس کھلی مت رکھنا
تیری غیرت یہ گوارا نہ کرے گی بھیا
سب تماشائی ہیں اور بھای بہن بے پردہ
بڑھتی جاتی ہے یہ عباس کلیجے میں چبھن
آنکھیں عباس کھلی مت رکھنا
بے ردا شام کے بازار۔۔۔
تم کو عباس بہت تھا میرے پردے کا خیال
آ گیا شام کا بازار اور زینب ہے نڈھال
تیرے مرنے سے بڑی زینب کبریٰ کی تھکن
آنکھیں عباس کھلی مت رکھنا
بے ردا شام کے بازار۔۔۔
اے وفادار سکینہ کا گلا جکڑا ہے
آشک کے بدلے تیری آنکھ سے خوں بہتا ہے
ہوگا یہ رنج بھتیجے کے ہے ہاتھوں میں رسن
آنکھیں عباس کھلی مت رکھنا
بے ردا شام کے بازار۔۔۔
تھوڑی ہی دیر کو رکتا تیرا سر نیزے پر
بے ردا سب میرا سر دیکھ کے پھر تیرا سر
خوف ہے سوچ کے رک جاے نہ دل کی دھڑکن
آنکھیں عباس کھلی مت رکھنا
بے ردا شام کے بازار۔۔۔
ایک گھٹڑی میں ہمیں لاش ملی قاسم کی
دشت میں بعد تیرے ایسی قیامت ٹوٹی
رن میں پامال ہوا اس طرح نوشاہ کا تن
آنکھیں عباس کھلی مت رکھنا
بے ردا شام کے بازار۔۔۔
بولی زینب کہ سکینہ کی ردا آی ہے
نہ یتیمہ ہے نہ زندہ میرا بھای ہے
تھی وہ ریحان و مبارک تو عجب سی الجھن
آنکھیں عباس کھلی مت رکھنا
بے ردا شام کے بازار۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.