Qaza ki aakhri
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Hazrat Ali Akbar (a.s) recited by Mukhtar Hussain Fatehpuri
قضا کی آخری ہچکی بڑی نہ مہربان نکلی
ادھر صغرا کا خط آیا ادھر اکبر کی جاں نکلی
نگاہیں جانب خیمہ تھی اور شبیر کہتے تھے
قیامت ہو گی خیموں سے اگر اکبر کی ماں نکلی
قضا کی آخری ہچکی۔۔۔
جگر بھی آ گیا شبیر کے ہاتھوں میں بیٹے کا
علی اکبر کے سینے سے اکیلی کب سناں نکلی
قضا کی آخری ہچکی۔۔۔
علی اکبر نے یوں الللہ اکبر کی صدا دی تھی
قضا کے وقت سینے سے لہو بن کر اذاں نکلی
قضا کی آخری ہچکی۔۔۔
اکیلے کس طرح شبیر میت کو اٹھاینگے
مدد کے واسطے زینب بھی زیر آسماں نکلی
قضا کی آخری ہچکی۔۔۔
ہٹایا لال کا زخم جگر سے ہاتھ مادر نے
خلیل اللّٰہ کے لب سے صداے الامان نکلی
قضا کی آخری ہچکی۔۔۔
اذاں کے وقت سے پیاسے تھے نیزے خونِ اکبر کے
قضا کے وقت سینے سے لہو بن کر اذاں نکلی
قضا کی آخری ہچکی۔۔۔
محمد کربلا والا مؤذن تھا محمد کا
کہاں کی دشمنی امت کو تھی اکبر کہاں نکلی
قضا کی آخری ہچکی۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.