Beparda shaam ki
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Shaam recited by Nasir Zaidi
ہاے زینب ہاے زینب
بے پردہ شام کی گلیوں میں
تطہیر کی چادر والی ہے
کوٹھوں سے برستے ہیں پتھر
اٹھارہ برادر والی ہے
حسنین کی جو مانجای ہے
وہ قیدی بن کے آی ہے
اک جشن بپا بازار میں ہے
ناموس پیمبر والی ہے
بے پردہ شام کی۔۔۔
سر زخمی ہے زخمی ہے بدن
بے چادر ہے ہاتھوں میں رسن
جرأت بھی شجاعت بھی لیکن
عباس دلاور والی ہے
بے پردہ شام کی۔۔۔
بے گور و کفن اسلام تھا جب
دے کر چادر بولی زینب
یہ ساری سخاوت خوں میں میرے
تاثیر یہ حیدر والی ہے
بے پردہ شام کی۔۔۔
دروں کی اذیت سہتی ہوی
تا شام گیء یہ کہتی ہوی
یہ خطبوں کی تلوار نہیں
تحریر یہ شبر والی ہے
بے پردہ شام کی۔۔۔
جس وقت اذاں راہوں میں سنی
سر ڈھانپ کے ہاتھوں سے بولی
اے نانا دن یہ درد کے ہیں
یہ بات مقدر والی ہے
بے پردہ شام کی۔۔۔
عباس کا سر نیزے سے گرا
سر زینب کا دیکھا جو کھلا
یہ تازہ مصیبت غازی پر
شمشیر سکندر والی ہے
بے پردہ شام کی۔۔۔
دربار ستم میں شہزادی
پہنچی تو قیامت برپا تھی
ہر ایک ستمگر کہتا تھا
یہ ساعت محشر والی ہے
بے پردہ شام کی۔۔۔
کہتی تھی سکینہ رو رو کر
کب جاییں گے زندان سے گھر
زینب نے کہا یہ بات نہ کر
یہ چوٹ ہے خنجر والی ہے
بے پردہ شام کی۔۔۔
اے ناصر اے ریحان عزا
زینب کو یہ کہہ کر دو پرسہ
یہ اشک نہیں رک سکتے کبھی
یہ موج سمندر والی ہے
بے پردہ شام کی۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.