Maula se mere
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Hazrat Ali Akbar (a.s) recited by Farhan Ali Waris
مولا سے میرے نازوں کا پالا نہ اٹھے گا
لاشے پہ کھڑے سوچتے تھے سید والا
اٹھارہ برس ماں نے مرادوں سے تھا پالا
خیمے کی طرف دیکھا کبھی دل کو سنبھالا
پھر تھام کے پھل برچھی کا سینے سے نکالا
مولا سے میرے نازوں کا پالا نہ اٹھے گا
زخمی ہے بہت گیسوؤں والا نہ اٹھے گا
اک باپ کو تقدیر نے حالت یہ دکھای
تھی لاشے جواں سامنے ہونٹوں لے دہائی
پٹکے سے کمر تھام کے میت جو اٹھای
سر ننگے پھپھی خیمے سے باہر نکل آی
مولا سے میرے۔۔۔
زخمی ہے بہت۔۔۔
مقتل میں قیامت کی گھٹا چھا گیء اکبر
نہ جانے تجھے کس کی نظر کھا گیء اکبر
دن بیاہ کے آے تو اجل آ گیء اکبر
اٹھ جاؤ میرے لال پھپھی آ گیء اکبر
مولا سے میرے۔۔۔
زخمی ہے بہت۔۔۔
بانو کا یہ ارمان تھا دلہن بیاہ کے لاتی
اس چاند سے چہرے پہ وہ سہرا بھی سجاتی
صغرا تیرے ان ہاتھوں میں مہندی بھی رچاتی
خود کرتی ہر ایک کام نہ بھابھی سے کراتی
مولا سے میرے۔۔۔
زخمی ہے بہت۔۔۔
کیا خون میرے لال یہ شادی ہے رچای
آی نہ دلہن بیاہ کے میت تیری آی
رو رو کے یہ زینب نے دی بابا کو دہائی
شبیر نے خود ان ہاتھوں پہ یہ لاش اٹھای
مولا سے میرے۔۔۔
زخمی ہے بہت۔۔۔
سردار عزادار حسین آے ہیں پرنم
جب تک بھی دھڑکتے ہوے سینوں میں رہے دم
برپا علی اکبر کا کرے گا یونہی ماتم
اٹھ جاییں گے دنیا سے تو رہ جاے گا یہ غم
مولا سے میرے۔۔۔
زخمی ہے بہت۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.