Mar na jaye kahin
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Hazrat Ali Akbar (a.s) recited by Kazmi Brothers
زانو پہ رکھ کے سر کو مظلوم کربلا
کہتے تھے تڑپ کر
مر نہ جائے کہیں وہ ماں اکبر
اس طرح لو نہ ہچکیاں اکبر
خوں جو سینے سے ہے رواں اکبر
کر کے تنہا چلے کہاں اکبر
مر نہ جائے کہیں۔۔۔
لاشہ خیموں میں لے کے جانا ہے
زخم ماوں سے یہ چھپانا ہے
ایسے رگڑو نہ ایڑیاں اکبر
مر نہ جائے کہیں۔۔۔
حال غربت تمہیں سنانا تھا
ماں نے سینے تمہیں لگانا تھا
آگئی درمیاں سناں اکبر
مر نہ جائے کہیں۔۔۔
دل کی دھڑکن کو آسرا دے دو
ہم کو آواز مصطفیٰ دے دو
اب نہیں دو گے کیا آذاں اکبر
مر نہ جائے کہیں۔۔۔
سُن کے تیری صدائے ادرکنی
دوڑے کہتے ہوئے یہ ابنِ علی
آ رہا ہوں میں میری جاں اکبر
مر نہ جائے کہیں۔۔۔
میری بینائی کھو گئی ہے پسر
مجھ کو آتا نہیں ہے کچھ بھی نظر
دو نا آواز ہو کہاں اکبر
مر نہ جائے کہیں۔۔۔
ہاتھ سینے پے دھر لیا بیٹا
میں نے محسوس کر لیا بیٹا
زخم گہرا ہے میری جاں اکبر
مر نہ جائے کہیں۔۔۔
میرے یوسف تم ہی تھے اے پیارے
میری آنکھوں کے تم ہی تھے تارے
کھو گیا میرا کل جہاں اکبر
مر نہ جائے کہیں۔۔۔
لکھ ضحا دل میرا بھی پھٹتا ہے
ساتھ برچھی کے دل بھی کھچتا ہے
کھینچتے ہیں وہ جب سناں اکبر
مر نہ جائے کہیں۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.