Bekason ka khaafla
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Shaam recited by Mir Hasan Mir
بیکسوں کا قافلہ ہے شام کا بازار ہے
خواہر عباس غازی قافلہ سالار ہے
کیوں نہ رونے کی صدا آے در و دیوار سے
بے ردا سیدانیاں ہے اور بھرا دربار ہے
بیکسوں کا قافلہ ہے۔۔۔
کس طرح مانگے غلاموں سے بھلا عابد ردا
یہ ہے غازی کا بھتیجا اور بڑا خود دار ہے
بیکسوں کا قافلہ ہے۔۔۔
یوں حقارت سے نہ دیکھو سید سجاد کو
یہ کوئی مفلس نہیں کونین کا سردار ہے
بیکسوں کا قافلہ ہے۔۔۔
خاک سر پہ تازیانوں کے نشاں ہے پشت پر
طوق ہے زنجیر ہے اور عابد بیمار ہے
بیکسوں کا قافلہ ہے۔۔۔
یا الٰہی کیسے گزرے گا یہ نازوں کا پلا
پاؤں میں چھالے پڑے ہیں راستہ پر خار ہے
بیکسوں کا قافلہ ہے۔۔۔
تازیانے مت لگاؤ مت ستاؤ ظالموں
یہ بہت زخمی بہت پیاسا بہت بیمار ہے
بیکسوں کا قافلہ ہے۔۔۔
چھپ ہے عابد غمزدہ گھبرا رہی ہے بی بیاں
اب بہت نزدیک شاید شام کا دربار ہے
بیکسوں کا قافلہ ہے۔۔۔
کہہ رہا ہے شاہ کی آنکھوں سے خوں بہتا ہوا
شام کے بازار کی منزل بہت دشوار ہے
بیکسوں کا قافلہ ہے۔۔۔
جو گھرانہ لٹ گیا تھا دشت میں گوہر کبھی
آج وہی دو جہاں کا مالک و مختار ہے
بیکسوں کا قافلہ ہے۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.