Maa aur ali akbar
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Hazrat Ali Akbar (a.s) recited by Nadeem Sarwar
جب علی اکبر سا بیٹا شاہ کو رب نے دیا
اس عطائِ کبریا پر کربلا نے دی صدا
---ماں اور علی اکبر کی ماں
اُس کا ماتھا چومتی تھی اُمِ لیلیٰ بار بار
اُس کا چہرہ دیکھ کر کہتی تھی اے پروردگار
یہ بہارِ زندگی ہے یہ میرے گھر کی بہار
یہ میری پہلی تمنا یہ میرے دل کا قرار
---ماں اور علی اکبر کی ماں
کالی ڈوری باندھتی ننھی کلائی میں کبھی
ننھے سینے پر کبھی کرتی تھی دم نادِ علی
کہتی تھی مُرجھا ئے نہ مولا میرے دل کی کلی
یہ دلِ شبیر ہے یہ ہے ہماری زندگی
---ماں اور علی اکبر کی ماں
گھُٹنیوں چلنے لگا جس وقت اُن کا شیر خوار
صاف کرتی اپنے آنچل سے وہ اُس کی رہ گُزار
اے خُدا نہ خواستہ چبھ جائے نہ بچے کی کھال
چلتے چلتے جب وہ تھکتا پُشت پہ کرتی سوار
---ماں اور علی اکبر کی ماں
خیر سے جب عمر بڑھکر اسکی اس قابل ہوی
جس میں گہوارے کی خواہش ہو نہ ماں کے گود کی
بچپنا رخصت طلب ہو اور شباب آمد گھڑی
جب جوانی آ رہی ہو اور مس ہو بھیگتی
---ماں اور علی اکبر کی ماں
سب قانونِ حرب سکھلاتے تھے عباسِ جری
صحن میں کرسی بچھا کر ماں بھی اکثر دیکھتی
مشق کے دوران اک دن یوں ہی نیزے کی اَنی
چھُو گئی سینے سے لیلیٰ پر غشی طاری ہوئی
---ماں اور علی اکبر کی ماں
اک وہ دن تھا کہ جب برچھی ذرا سی چھُو گئی
اُمِ لیلیٰ کانپ اُٹھی اور غشی طاری ہوئی
اک یہ دن ہے میدانِ کربلا دیکھے کوئی
ہائے جگر کے پار نیزہ اور ماں ہے دیکھتی
---ماں اور علی اکبر کی ماں
کیا خبر تھی اُمِ لیلیٰ کو وہ دن بھی آئے گا
بیاہ کا ارماں دل کا دل میں ہی رِہ جائے گا
لاشِ قاسم کی طرح ٹکڑوں میں دل بٹ جائے گا
نوجواں کی لاش پر سہرا سجایا جائے گا
---ماں اور علی اکبر کی ماں
اُمِ لیلیٰ دل سنبھالو عرش سے آئی صدا
برچھیوں کی سمت جاتا ہے تمہارا مہلکا
یوں کرو رخصت کے جیسے ہو سماں بارات کا
خاک میں مِل جائے گی لیلیٰ شبیہہِ مصطفیٰ
---ماں اور علی اکبر کی ماں
کس طرح ریحان ہو اُس گفتگو کا اب بیاں
عورتیں جب شام کی کہتی تھیں لے کر ہچکیاں
جس جواں کا نوکِ نیزہ پر ہوا ہے سر عیاں
اُس جواں سے پہلے یا رب مر گئی ہو اُس کی ماں
---ماں اور علی اکبر کی ماں
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.