Behen hussain ki
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Shaam recited by Irfan Haider
جب آی شام کی بستی میں ننگے سر زینب
اسیر و مضطر و بیتاب و نوحہ گر زینب
منہ اپنا بالوں سے ڈھانپے تھی اونٹ پر زینب
یہ روکے کہتی تھی ہر دم بہ چشمِ تر زینب
بہن حسین کی خوں فاطمہ کی جای ہوں
میں کربلائے معلٰی سے لٹ کے آی ہوں
اجاڑ ماریہ میں ہو گیا چمن میرا
بچھڑ گیا علی اکبر سا گل بدن میرا
ہوا شہید ہر ایک شیر صف شکن میرا
لہو رُلاتا ہے خود مجھ کو یہ سُخن میرا
بہن حسین کی ہوں۔۔۔
سکینہ بی بی نے تب ہاتھ جوڑ کر یہ کہا
سناں سے دیکھو تو یہ ظلم یہ ستم بابا
پھپھی کے نوحے سے دل ہوتا ہے تہہ و بالا
کہ شام والوں نے مجھکو نہیں ہے پہچانا
بہن حسین کی ہوں۔۔۔
نہ کوئی راہ میں آرام ہے نہ سوتی ہوں
تڑپتی رہتی ہوں بے حال غم سے ہوتی ہوں
غم فراق میں منہ آنسوؤں سے دھوتی ہوں
یہ بین کرتی ہوں اور صبح شام روتی ہوں
بہن حسین کی ہوں۔۔۔
مہار اونٹوں کی تھامے ہے عابد مضطر
کہیں سے آگ برستی ہے اور کہیں پتھر
اسیر طوق و سلاسل ہے کیا کرے لاغر
وہ مر نہ جائے کہیں میرا مرثیہ سن کر
بہن حسین کی ہوں۔۔۔
یہ بات شام کے لوگوں کو کیا خبر نہ ہوئی
کہ یہ جو اونٹوں پہ آے ہے سر کھلے قیدی
فلک نشیں ہے ان قیدیوں میں ہر بی بی
خدارا شام کے لوگوں کو یہ بتانے کوی
بہن حسین کی ہوں۔۔۔
سنا ہے ہوگا تعارف ابھی یہاں میرا
زمیں چھپالے مجھے یا اٹھالے مجھکو خدا
نہ سن سکوں گی شقی کی زباں سے نام اپنا
سنوں بھی کیسے گوارا لہو نہیں کرتا
بہن حسین کی ہوں۔۔۔
زمیں دبیر کی تعظیم ہے یہ مظہر کی
فغاں لبوں پہ ہے عرفان غم کے منظر کی
اذان رنج و الم ہے یہ قلب مضطر کی
صدا رلاے گی تا حشر بنت حیدر کی
بہن حسین کی ہوں۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.