Kehti thi madar
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Hazrat Ali Akbar (a.s) recited by Ali Zia Rizvi
کہتی تھی مادر اے علی اکبر
رن سے دو آواز مجھے
ماں تمہیں قد لے آئے جا کر
رن سے دو آواز مجھے
---کہتی تھی مادر
اے میرے ابرو کماں سوےء ہوئے ہو کہاں
منہ سے تو بولے زرا ڈھونڈتی ہے تم کو ماں
میں نے یہ سوچا تھا کب اے میرے تشنہ دہاں
داغ پسر پاؤنگی تھا یہ مجھے کب گماں
سوچا تھا ایسا کب دلبر
رہ گےء سارے خواب بکھر کر
رن سے دو آواز مجھے
---کہتی تھی مادر
مجھکو یہی لگتا ہے جیسے ابھی آؤ گے
آتے ہی قدموں سے تم ماں کے لپٹ جاؤ گے
میری پریشانی پر کچھ تو ترس کھاؤ گے
حرف تسلی سے تم دل میرا بہلاؤگے
دوگے دلاسہ علی اکبر
ایسا مگر ہونے لگا کیوں کر
رن سے دو آواز مجھے
---کہتی تھی مادر
جن پہ مجھے ناز تھا سب کو قضاء آگیء
گلشن امید کی ہر کلی مرجھاگیء
گھر کے چراغوں کو یہ کس کی نظر کھا گئی
تیرگیء شام غم چاروں طرف سے چھا گئی
ڈھاتے ہیں اعدا ستم ہم پر
جلتے ہیں خیمے چھنتی ہے چادر
رن سے دو آواز مجھے
---کہتی تھی مادر
شام غریباں آ گیء رات ہویء جب عیاں
سید سجاد تھے غش میں پڑے نیم جاں
ایسے میں زینب بنی غمزدوں کی پاسباں
ہونٹوں پہ محسن مگر لیلیٰ کے تھی یہ فغاں
روے گی تم کو صدا مادر
اے میرے پیاسے اے میرے دلبر
رن سے دو آواز مجھے
---کہتی تھی مادر
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.