Kehte thay shaah
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Hazrat Ali Akbar (a.s) recited by Afzal Mirza
کہتے تھے شاہ اے علی اکبر کہاں ہو تم
اے میرے لال اے میرے دلبر کہاں ہو تم
اپنے ضعیف باپ کی آ کر مدد کرو
گھیرے ہوے ہے شام کا لشکر کہاں ہو تم
کہتے تھے شاہ۔۔۔
آواز دے رہے ہیں پسر کو شہ ہدا
اے نوجواں شبیہ پیمبر کہاں ہو تم
کہتے تھے شاہ۔۔۔
خیمے کے در پہ آس لگاے کھڑی ہے ماں
ویران ہو گیا ہے بھرا گھر کہاں ہو تم
کہتے تھے شاہ۔۔۔
رو رو کے کہہ رہی ہے یہ زینب جواب دو
خیمے جلا رہے ہے ستمگر کہاں ہو تم
کہتے تھے شاہ۔۔۔
لیلیٰ کے دل کو کون سنبھالے میرے پسر
در در پھرا رہے ہیں ستمگر کہاں ہو تم
کہتے تھے شاہ۔۔۔
جب سے گےء ہو تم دل مادر اداس ہے
آنکھوں کا نور اے علی اکبر کہاں ہو تم
کہتے تھے شاہ۔۔۔
بیٹھی ہوی ہوں منہ کو چھپائے زمین پر
اعدا نے چھین لی میری چادر کہاں ہو تم
کہتے تھے شاہ۔۔۔
اب شام ہو رہی ہے سکینہ کی لو خبر
اے نوجواں حسین کے دلبر کہاں ہو تم
کہتے تھے شاہ۔۔۔
ہم گھر چکے ہیں نرغہء اعدا میں اے پسر
درے لگا رہے ہیں ستمگر کہاں ہو تم
کہتے تھے شاہ۔۔۔
ٹوٹی ہوی کمر کو سنبھالو حسین کی
کہتی ہے رو کے زینب مضطر کہاں ہو تم
کہتے تھے شاہ۔۔۔
لیلیٰ کی آرزو ہے اک بار دیکھ لو
ہمشکل مصطفیٰ علی اکبر کہاں ہو تم
کہتے تھے شاہ۔۔۔
شہ کے گلے پہ شمر کا خنجر غضب ہوا
آی صدا کے اے علی اکبر کہاں ہو تم
کہتے تھے شاہ۔۔۔
اہلِ حرم میں حشر بپا ہو گیا اسیم
سرور نے جب کہا علی اکبر کہاں ہو تم
کہتے تھے شاہ۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.