Kamar ko thaame
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Hazrat Ali Akbar (a.s) recited by Safdar Abbas
کمر کو تھامے چلے ہیں مولا
جواں بیٹے کی لاش اٹھانے
جہاں پہ زین سے گرتا بیٹا
وہی پہ خونِ جگر بہانے
بدن میں راشا بلا کی گرمی
اور اس پہ غلبہ ہے تشنگی کا
زمیں پہ بکھرے پڑے ہیں لاشے
عجیب عالم ہے بیکسی کا
کسے پکارے کسے بلاے
جدا کیا سب کو ہی قضاء نے
کمر کو تھام۔۔۔
سنای دیتا نہیں ہے کچھ بھی
کہ نور آنکھوں کا جا چکا ہے
ہر ایک لاشے سے کھاے ٹھوکر
کوئی دلاسہ ہے نہ عصا ہے
لرزتے قدموں سے جا رہے ہیں
بس ایک عہد وفا نبھانے
کمر کو تھام۔۔۔
کیا تھا یومِ الست وعدہ
میں عشق کا امتحان دونگا
اٹھا کے صدمے لٹا کے کنبہ
میں اپنی سجدے میں جان دونگا
تمام أہل فلک نے دیکھا
کلیجے تھامے ہے انبیاء نے
کمر کو تھام۔۔۔
نہ لب پہ شکوہ نہ بد دعا ہے
مگر ہے آنکھوں میں اک سمندر
ضعیفی چلنے سے روکتی ہے
سنبھلتے جاتے ہیں کھا کے ٹھوکر
کوئی تو آے مدد کی خاطر
کیےء ہیں یہ بین کربلا نے
کمر کو تھام۔۔۔
غریب زہرا کا ہے یہ نوحہ
کہاں ہو نورِ نظر بتاؤ
میں کب سے مقتل میں ڈھونڈتا ہوں
پدر کو آواز تو سناؤ
صدا یہ سن کر کیا ہے نوحہ
ہر ایک شہید راہ خدا نے
کمر کو تھام۔۔۔
یہ دن کسی کو نہ رب دکھاے
جواں کی میت پدر اٹھاے
اٹھا رہا ہے جو لاشہ اکبر
حسین کا یہ جگر ہے ہاے
خلیل صبر حسین دیکھے
کہ اپنے دل کا لہو بہانے
کمر کو تھام۔۔۔
بڑی قیامت کا ہے یہ منظر
بیان کیسے کروں میں صفدر
لہو قلم سے ٹپک رہا ہے
یہ بات کیسے لکھو میں مظہر
ہے کیسا صابر غریب زہرا
یہ صرف میرا خدا ہی جانے
کمر کو تھام۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.