Kadiyal jawan ki
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Hazrat Ali Akbar (a.s) recited by Mir Hasan Mir
گھوڑے سے گر کے جب علی اکبر نے دی صدا
اپنی کمر کو تھام کے شبیر نے کہا
کڑیل جواں کی لاش اٹھانے چلے ہیں ہم
سیدھی ہو اے کمر تجھے عباس کی قسم
یہ امتحاں ضعیفی میں مجھکو نبھانا ہے
اکبر کو لے کے خیمہء زینب میں جانا ہے
رستے میں لڑکھڑائیں نہ شبیر کے قدم
سیدھی ہو اے کمر تجھے عباس کی قسم
کڑیل جواں کی لاش۔۔۔
غربت پہ اپنی رویا ہے خود ابن فاطمہ
گر گر کے طے کیا ہے یہ مقتل کا فاصلہ
بس ہم سے دور لاش ہے اکبر کی دو قدم
سیدھی ہو اے کمر تجھے عباس کی قسم
کڑیل جواں کی لاش۔۔۔
رعشا ہے اس قدر کے لرزتے ہیں میرے ہاتھ
لاشہ ہے یہ رسول کا اکبر کے ساتھ ساتھ
دو لاشیں ایک ساتھ اٹھاینگے کیسے ہم
سیدھی ہو اے کمر تجھے عباس کی قسم
کڑیل جواں کی لاش۔۔۔
اس حال میں کہیں مجھے زہرا نہ دیکھ لیں
میری کمر جھکی ہوئی بابا نہ دیکھ لیں
آتے ہی ہونگے میری مدد کو شہ امم
سیدھی ہو اے کمر تجھے عباس کی قسم
کڑیل جواں کی لاش۔۔۔
سینے میں کہکے توڑی ہے ظالم نے یہ سناں
اب دیکھنا حسین کی نکلے گی کیسے جاں
ظالم کو یہ بتانا ہے ابنِ علی ہیں ہم
سیدھی ہو اے کمر تجھے عباس کی قسم
کڑیل جواں کی لاش۔۔۔
اس حال میں قیام میں جاؤں گا کس طرح
زینب کی کائنات اٹھاؤں گا کس طرح
زہرا کا چاند کربوبلا میں ہوا ہے خم
سیدھی ہو اے کمر تجھے عباس کی قسم
کڑیل جواں کی لاش۔۔۔
اماں کے ساتھ مل کے سناں میں نے کھینچ لی
ہاتھوں میں اب ہمارے وہ طاقت نہیں رہی
عباس کیا گئے میرے بازو ہوئے قلم
سیدھی ہو اے کمر تجھے عباس کی قسم
کڑیل جواں کی لاش۔۔۔
باہیں گلے میں ڈال دی اکبر نے جس گھڑی
ابنِ علی نے رو کے تکلم صدا یہ دی
سانسیں بچی ہیں اب میرے اکبر کے پاس کم
سیدھی ہو اے کمر تجھے عباس کی قسم
کڑیل جواں کی لاش۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.