Kadiyal jawan akbar
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Hazrat Ali Akbar (a.s) recited by Mir Rehan Abbas
کڑیل جوان اکبر مرنے کو جا رہا ہے
خاموش ہے خدای سکتے میں کربلا ہے
ماں شیر سے پسر کو حسرت سے تک رہی ہے
چہرے پہ بے کسی ہے آنکھوں میں بے بسی ہے
اکبر رہے سلامت ہونٹوں پہ یہ دعا ہے
کڑیل جوان اکبر۔۔۔
فریاد کر رہی ہے بہنیں تڑپ تڑپ کر
رو رو کے کہہ رہی ہے مت جاؤ بھای اکبر
بہنوں کو بھی کسی نے کیا یہ بتا دیا ہے
کڑیل جوان اکبر۔۔۔
سر پیٹتا ہے کوی کرتا ہے کوی ماتم
ہے ایسا غم کے مارے سیدانیوں کا عالم
خیموں میں شاہ دیں کے کہرام مچ گیا ہے
کڑیل جوان اکبر۔۔۔
دریا کی سمت دیکھا ٹھوکر جو رن میں کھای
کچھ دیر کو تو آجا عباس میرے بھای
یہ کہکے میرا مولا مقتل میں گھر گیا ہے
کڑیل جوان اکبر۔۔۔
بانو تڑپ کے بولی ارمان تو بڑھا لوں
اپنے جواں پسر کو دولہا تو میں بنا لوں
آے گا اب نہ واپس اکبر مجھے پتہ ہے
کڑیل جوان اکبر۔۔۔
خاموش ہو گیء ہے کچھ بولتی نہیں اب
سہمی ہوی زمیں پر بیٹھی ہوی ہے زینب
شبیر نے نہ جانے زینب کو کیا کہا ہے
کڑیل جوان اکبر۔۔۔
کرب و بلا کے بن میں اکبر ہے آگے آگے
اٹھارہ سال پالا جس نے گلے لگا کے
اکبر کے پیچھے پیچھے وہ باپ جا رہا ہے
کڑیل جوان اکبر۔۔۔
بھای بھتیجے یاور کوئی نہیں ہے گوہر
اللّٰہ رے یہ غربت یہ بے کسی کا منظر
دشت بلا میں تنہا مظلوم کربلا ہے
کڑیل جوان اکبر۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.