Kaash akbar tere
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Hazrat Ali Akbar (a.s) recited by Kazmi Brothers
کاش اکبر تیرے جیسا تیرا بیٹا ہوتا
تجھ کو اندازہ میرے دردِ جگر کا ہوتا
مانگنے آتا جوانی میں وہ مرنے کی رضا
اور بیٹا بھی ترا ہوتا محمد جیسا
پوچھ کر دل سے بتا حال ترا کیا ہوتا
کاش اکبر تیرے۔۔۔
کس طرح کرتا جواں لعل کو رخصت بیٹا
کیسے دیتا اسے مرنے کی اجازت بیٹا
تیری بہنوں نے جسے ناز سے پالا ہوتا
کاش اکبر تیرے۔۔۔
کانپتے ہاتھ لرزتے ہوئے سانسوں کے قدم
کس طرح دیکھتا آنکھوں سے نکلتے ہوئے دم
پیار بھی اس سے تجھے سب سے زیادہ ہوتا
کاش اکبر تیرے۔۔۔
تیرے حصے میں مری جیسی غریبی آتی
وقت سے پہلے مرے لعل ضعیفی آتی
وہ پسر سامنے جب خون میں ڈوبا ہوتا
کاش اکبر تیرے۔۔۔
دیکھتا آنکھوں سے جب نورِ نظر کے ٹکڑے
باپ کے منہ سے نکل آتے جگر کے ٹکڑے
ساتھ برچھی کے جو ہاتھوں پہ کلیجہ ہوتا
کاش اکبر تیرے۔۔۔
خاک پر خوں میں تڑپتی ہو نبی کی تصویر
صبر کر لیتا بتا ہاتھ میں رکھ کر شمشیر
جب کہ ہنستے ہوئے قاتل کو بھی دیکھا ہوتا
کاش اکبر تیرے۔۔۔
تجھ کو معلوم بھی ہوتا نہ اٹھے گا یہ پسر
کیا ترے دل پہ گزرتی یہ بتا دے اکبر
اس کی صغرا کا بھی خط آنے ہی والا ہوتا
کاش اکبر تیرے۔۔۔
بس یہ کہتے تھے تکلم شہہِ والا روکر
ہوتی اکبر تری اولاد زمانے میں اگر
تجھ کو احساس مرے دل کی تڑپ کا ہوتا
کاش اکبر تیرے۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.