Bazare sham se
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Shaam recited by Safdar Abbas
ایک زایر شام سے جب آیا تھا اسکے لبوں پر نوحہ
پوچھا جو کسی نے اے زایر کیا تونے وہاں پر دیکھا
بولا رو کر ہاے مت پوچھو
پھٹتا ہے جگر ہاے مت پوچھو
بازار شام سے آیا ہوں
اس شہر ستمگر میں اب تک بے غیرت لوگ ہی بستے ہیں
کل اہل حرم پر ہنستے تھے اب اہل عزا پر ہنستے ہیں
ہاے مت پوچھو ہاے مت پوچھو
کیا منظر میں دیکھ آیا ہوں
بازار شام سے۔۔۔
ان راہوں کو بھی دیکھا ہے سادات جہاں تھے بے چادر
تھے اہل حرم پابند رسن اور ان پہ برستے تھے پتھر
ہاے مت پوچھو ہاے مت پوچھو
کیا زخم جگر لایا
بازار شام سے۔۔۔
چودہ سو برس گزرے لیکن وہ آج بھی ریت نبھاتے ہیں
بازار سجاے جاتے تھے بازار سجاے جاتے ہیں
ہاے مت پوچھو ہاے مت پوچھو
وہ گلیاں میں دیکھ آیا ہوں
بازار شام سے۔۔۔
اپنے اجداد کی رسموں کو وہ اہل شام نہیں بھولے
کل بھی تھے تماشائی ظالم اب تک وہ لوگ نہیں بدلے
ہاے مت پوچھو ہاے مت پوچھو
یہ درد وہاں سے لایا ہوں
بازار شام سے۔۔۔
بازار کے رستے دیکھے تو سجاد کا رونا یاد آیا
ہنستے ہوئے چہرے دیکھے تو سجاد کا رونا یاد آیا
ہاے مت پوچھو ہاے مت پوچھو
کیا یاد وہاں سے لایا ہوں
بازار شام سے۔۔۔
ان شام کی گلیوں میں کیسے عباس کی خواہر آی تھی
ہاتھوں میں رسن تھی زینب کے اور ہاے کھلے سر آی تھی
ہاے مت پوچھو ہاے مت پوچھو
یہ سونچ کے میں پھرایا ہوں
بازار شام سے۔۔۔
دل خون کے آنسوں روتا تھا سجاد کا ان بازاروں میں
بے پردہ حرم کی حالت پر ہنستے تھے شرابی راہوں میں
ہاے مت پوچھو ہاے مت پوچھو
دل میں یہ درد بسایا ہوں
بازار شام سے۔۔۔
یہ سونچ کے دل پھٹ جاتا ہے سجاد پہ کیا گزری ہوگی
باب ساعت پہ رک کر اولاد پیمبر روتی تھی
ہاے مت پوچھو ہاے مت پوچھو
کیسے زندہ لوٹ آیا ہوں
بازار شام سے۔۔۔
میں شام کے ان بازاروں سے یہ زخم جگر لایا مظہر
تم پوچھتے ہو تحریر میں کیا روداد سفر لایا صفدر
ہاے مت پوچھو ہاے مت پوچھو
نوحہ یہ زباں پر لایا ہوں
بازار شام سے۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.