Jao ab khuda hafiz
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Hazrat Ali Akbar (a.s) recited by Hadi Ali Khan Muslim
جائو اب خدا حافظ اے میرے علی اکبر
سر زمینِ کربلا پر درد کا عجب منظر
جا رہا ہے مقتل کو اب شبیہہِ پیعمبر
الوداع کرنے کو لاکے موت کے در پر
اپنے دل کے ٹکڑے سے کہہ رہی ہے یہ مادر
جائو اب خدا حافظ۔۔۔
آ میں اپنے ہاتھوں سے پھر سنواروں زُلفیں
پاس بیٹھ جا کر لوں تجھ سے دو گھڑی باتیں
دیکھنے کو ترسیں گی تجھ کو اب میری آنکھیں
میرے لال آ تجھ کو دیکھ لوں میں جی بھر کر
جائو اب خدا حافظ۔۔۔
ماں نے تجھ کو پالا تھا کتنی آرزوئوں سے
کیا بتائوں میں بیٹا دل میں کتنے ارماں تھے
اب نہ دیکھ پائوں گی پھول تیرے سہرے کے
قلب ٹکڑے ہوتا ہے کس طرح کہے مادر
جائو اب خدا حافظ۔۔۔
ہر قدم پہ ہوئے گا سامنا اندھیروں کا
اب چراغ بجھتا ہے زندگی کی راہوں کا
نور لے کے جاتے ہو تم ہماری آنکھوں کا
تم کو ڈھونڈنے نکلیں کس کا آسرا لے کر
جائو اب خدا حافظ۔۔۔
دھوپ کی تمازت ہے ہے تین دن کے پیاسے ہو
تم پہ صدقے ہو جائوں دو گھڑی ٹھہر جائو
ماں کو چھوڑ کر بیٹا جا رہے ہو مقتل کو
ہائے تم سے پہلے ہی کیوں نہ مر گئی مادر
جائو اب خدا حافظ۔۔۔
بعد تیرے کیسے میں زندگی گزاروں گی
تیری چاند سی صورت میں کبھی نہ پاؤں گی
زندگی کا ہر لمحہ تیرا غم مناؤں گی
جی کے کیا کرے مادر تیرے بن علی اکبر
جائو اب خدا حافظ۔۔۔
زندگی کا ہر لمحہ ہم پہ بوجھ ہوے گا
آنکھ خشک ہوے گی قلب خون روے گا
سر زمینِ مقتل پر میرا لال سوے گا
ہاے یہ بھی کہنے کو زندہ رہ گیء مادر
جائو اب خدا حافظ۔۔۔
رُخصتِ علی اکبر کے عجیب لمحے تھے
یوں رشید خیمے سے اکبرِ جواں نکلے
اک جنازہ نکلا ہو جس طرح بھرے گھر سے
کہہ رہی تھی رو رو کر مادرِ علی اکبر
جائو اب خدا حافظ۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.