Jaanta hai bas
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Hazrat Ali Akbar (a.s) recited by Ali Yazdan
جانتا ہے بس خدا کیسے سنبھل پاے حسین
قتل گاہ میں لاش پر اکبر کی جب آے حسین
دی صدا اکبر نے بابا لو سلام آخری
ٹوٹی ہے سینے میں برچھی سانس رکتی ہے میری
یوں گرے سن کر زمیں پر نہ سنبھل پاے حسین
جانتا ہے بس خدا۔۔۔
گھٹنیوں چلتے ہوے پہنچے جو اکبر کے قریب
ابنِ زہرا آے ہمشکل پیمبر کے قریب
دیکھ کر سینے میں برچھی غم سے چلاے حسین
جانتا ہے بس خدا۔۔۔
دیکھی جس دم نوجواں کے سینے میں برچھی کی انی
ہو نہیں سکتی بیاں حالت دل شبیر کی
زندگی اور موت سے لڑتے نظر آے حسین
جانتا ہے بس خدا۔۔۔
خاک پر دم توڑتا تھا یہ علی اکبر میرا
ہو کہاں عباس آؤ دیتے ہیں سرور صدا
کوئی مونس ہی نہیں ہے کس کو بلواے حسین
جانتا ہے بس خدا۔۔۔
خاک پر بیٹھے پڑی ناد علی شبیر نے
کھینچ لی سینے سے برچھی کی انی شبیر نے
نوجواں کی لاش مقتل سے اٹھا لاے حسین
جانتا ہے بس خدا۔۔۔
سینۂ اکبر میں برچھی کا سنا گھبرا گیء
اتنا چاہا جب مصلے سے تو غش کھا کر گری
اب سنبھالو مادر اکبر کو مانجاے حسین
جانتا ہے بس خدا۔۔۔
اے بہن اکبر تمہارا خاک پر ہی سو گیا
جس کو پالا ناز سے زینب وہ اکبر نہ رہا
ہاے یہ زینب کو کس طرح سے سمجھاے حسین
جانتا ہے بس خدا۔۔۔
کیجےء احسان مولا آپ کا زایر بنوں
رو برو یزداں ہو روضہ اور میں نوحہ پڑھوں
دل کی دھڑکن بند ہو اور سانس رک جاے حسین
جانتا ہے بس خدا۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.