Is baat se zaahir hai
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Hazrat Ali Akbar (a.s) recited by Mir Hasan Mir
اس بات سے ظاہر ہے رتبہ علی اکبر کا
ہوتا ہے اذانوں میں چرچا علی اکبر کا
اے حر تیری قسمت نے کیوں آج یہ کروٹ لی
کیا صبح کو دیکھا ہے چہرہ علی اکبر کا
اس بات سے ظاہر ہے۔۔۔
شبیر جھلاتے تھے عباس کے جھولے کو
عباس جھلاتے ہیں جھولا علی اکبر کا
اس بات سے ظاہر ہے۔۔۔
پوچھا گیا یوسف سے جب حسن کے بارے میں
ہنس کر کہا یہ تو ہے صدقہ علی اکبر کا
اس بات سے ظاہر ہے۔۔۔
یہ رتبہء اکبر ہے حیدر کے گھرانے میں
آغوش ہے پھپھی کی جھولا علی اکبر کا
اس بات سے ظاہر ہے۔۔۔
اس ماں کا مقدر بھی کیا خوب مقدر ہے
جس ماں کو بھی مل جائے صدقہ علی اکبر کا
اس بات سے ظاہر ہے۔۔۔
لیلیٰ نے کہا بیٹھوں کس طرح میں سائے میں
پھرتا ہے نگاہوں میں چہرہ علی اکبر کا
اس بات سے ظاہر ہے۔۔۔
پوچھا گیا جب شہ سے
کیوں خم ہے کمر مولا
بولے کہ اٹھایا تھا لاشہ علی اکبر کا
اس بات سے ظاہر ہے۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.