Bazaare shaam
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Shaam recited by Shahid Baltistani
بازارِ شام آ گیا
اکبر میرے جواں کس کو بُلائے ماں
زینب کی لو خبر عابد ہے ناتواں
...بازارِ شام
دشت ِ بلا کو چھوڑ کر خاکِ شفا کو اوڑھ کر
اے فکرِ کبریائ سُنو کہتی ہوں ہاتھ جوڑ کر
کیسے چلے گی ماں اے میرے نوجواں
...بازارِ شام
قسمت کی پاسباں ہے وہ خیرُالنسائ کی جاںہے وہ
غربت کی انتہا ہوئی غیروں کے درمیاںہے وہ
شہزادئی جناں سہتی ہے سختیاں
...بازارِ شام
قاتل تیرا میرے پسر سجاد کا ہے ہمسفر
کم تو نہیں ہے یہ ستم سہتا رہا ہے وہ مگر
کیسے سہے بھلا بیمار سارباں
...بازارِ شام
میں نے سُنی ہے یہ صدا کہتے ہیں شام میں سبھی
بدلہ علی کا لیں گے ہم بنتِ علی سے آج ہی
پتھر سے ہیں بھری لوگوں کی جھولیاں
...بازارِ شام
نامحرموں کی بھیڑ میں اُٹھتی نہیں نظر میری
عباس کی قسم نہیں تشنہ لبی کا غم کوئی
دُکھ ہے یہ میری جاں سہمی ہیں بیبیاں
...بازارِ شام
پالا ہے جس نے عمر بھر اکبر تجھے حجاب میں
غازی کے سامنے بھی وہ بیٹا رہی نقاب میں
غیروں میں بے ردا جاتی ہے الاماں
...بازارِ شام
نوکِ سناں کو دیکھ کر یاور یہ کہہ رہی تھی ماں
آ دیکھ تُو بھی نوجواں مادر کا اپنی امتحاں
آنکھیں نہ بندھ کر غیرت سے آسماں
...بازارِ شام
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.