Galay na miloge
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Hazrat Ali Akbar (a.s) recited by Raza Abbas Zaidi
نکلا جو خیمہ گاہ سے لیلیٰ کا ماہ رو
بیٹی علی کی اشکوں سے کرنے لگی وضو
لہرا رہی تھیں برچھیاں مقتل میں چار سُو
اکبر سے کہہ رہے تھے شاہِ تشنئہ گُلو
جو حال دل کا ہے نہ سُنو گے حسین سے
جاتے ہوئے گلے نہ ملو گے حسین سے
تم جا رہے ہو چلتی ہیں سینے پہ برچھیاں
کس طرح جانے دوں تمہیں نیزوں کے درمیاں
آئے نہ زخم چاند سے سینے پہ میری جاں
جانِ پدر دعا بھی نہ لو گے حسین سے
جاتے ہوئے گلے نہ۔۔۔
جاتے ہو جاؤ تم کو مگر یہ رہے خیال
سینے کے سامنے سے نہ ہر گز ہٹے یہ ڈھال
نیزہ کوئی کلیجے پہ آئے نہ میرے لال
تم حالِ دل بھی کہہ نہ سکو گے حسین سے
جاتے ہوئے گلے نہ۔۔۔
تنہا ہو تم یہاں تو وہاں لاکھوں اشقیاء
پیاسی تمہاری خون کی ہے بانی ء جفا
اک شور ہے کے آتا ہے ہمشکلِ مصطفیٰ
اے چاند بدلیوں میں چھُپو گے حسین سے
جاتے ہوئے گلے نہ۔۔۔
خیمے کا پردہ اُٹھتا ہے گرتا ہے بار بار
کس طرح آئے ماں کو پھوپھی کو تیری قرار
چوکھٹ پہ بیٹھی صغریٰ بھی کرتی ہے انتظار
ہم خط میں کیا لکھیں نہ کہو گے حسین سے
جاتے ہوئے گلے نہ۔۔۔
تم اپنے ساتھ باپ کی بینائی لے چلے
قوت کمر کی پہلے ہی عباس لے گئے
بیٹا غریب باپ بھلا کس طرح جیئے
تم بھی نگاہیں پھیر چلو گے حسین سے
جاتے ہوئے گلے نہ۔۔۔
سینہ پسر کا چوم کے شبیر رو دیئے
اکبر پُکارے یوں میرے بابا نہ روئیے
آتا ہوں لوٹ کر ابھی خیمے میں جائیے
کیوں کہہ رہے ہو مل نہ سکو گے حسین سے
جاتے ہوئے گلے نہ۔۔۔
برچھی جگر پہ کھا کے جو اکبر گزر گئے
شہہ کہتے تھے ثمر یہی لاشِ جوان سے
تم بھی پدر سے جاتے ہو اے لال روٹھ کے
سینے سے کیا نہ اُٹھ کے لگو گے حسین سے
جاتے ہوئے گلے نہ۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.