Dushman ko bhi
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Hazrat Ali Akbar (a.s) recited by Ali Yazdan
داغ جوان دیکھے کے شبیر نے کہا
دشمن کو بھی خدا نہ دکھاے پسر کا داغ
کرتا ہوں بارگاہِ الہی میں یہ دعا
دشمن کو بھی خدا نہ دکھاے پسر کا داغ
جس کا جوان لال ہو اکبر سا نوجواں
خود آ کے جس کا صدقہ اتارے ہے کہکشاں
صدمہ کوئی اٹھاے نہ ایسے جوان کا
دشمن کو بھی خدا نہ۔۔۔
بچھڑا جواں تو پھر نہیں جینے کی کوی چاہ
تا عمر خوں کے اشک ہی برساتی ہے نگاہ
ہوتا ہے بند جینے کا ہر ایک راستہ
دشمن کو بھی خدا نہ۔۔۔
سہہ جاے گر یہ صدمہ تو ہمت ہے باپ کی
ورنہ جواں کے ساتھ ہی میت ہے باپ کی
میت جواں کی گویا جنازہ ہے باپ کا
دشمن کو بھی خدا نہ۔۔۔
ہمراہ تیرے ہوگیا رخصت ہمارا چین
اے میرے لال بعد تیرے کب رہا حسین
شہ نے جواں کی لاش پہ نوحہ یہی پڑھا
دشمن کو بھی خدا نہ۔۔۔
دل ٹکڑے ٹکڑے ہوگیا کس کو دکھاؤں میں
کیا کیفیت ہے روح کی کس کو سناؤں میں
یہ کہکے خوں بہاتا ہے زہرا کا دلربا
دشمن کو بھی خدا نہ۔۔۔
حسرت تھی سر پہ سہرا سجاؤں گا میرے لال
ہاتھوں سے اپنے دولہا بناؤں گا میرے لال
ارمان سارے خاک ہوے وا مصیبتا
دشمن کو بھی خدا نہ۔۔۔
آواز دے رہے ہیں بلاتے ہیں تم کو ہم
لبیک تو کہو تمہیں اللّٰہ کی قسم
یوں داغ دیکے باپ کو جاؤ نہ مہ لقا
دشمن کو بھی خدا نہ۔۔۔
ہر لمحہ تیری یاد ستاے گی باپ کو
تصویر تیری خون رلاے گی باپ کو
یہ داغ لے کے کیسے جیےء گا پدر تیرا
دشمن کو بھی خدا نہ۔۔۔
داغ جواں لباس ضعیفی پہناتا ہے
دنیا کو باپ کے لئے تربت بناتا ہے
ہے لب پہ ایک باپ کے بس اتنی التجاء
دشمن کو بھی خدا نہ۔۔۔
مجبور ہوں سنای نہیں دیتا کیا کروں
خود تم گلے سے آ مل لگو ایسا کیا کروں
دایم تھا باپ کا یہی میت پہ مرثیہ
دشمن کو بھی خدا نہ۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.