Bazaar mein zainab ne
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Shaam recited by Mir Hasan Mir
بازار میں زینب نے مرنے کی دوا مانگی
جب شام کے لوگوں سے عابد نے ردا مانگی
رخسار سکینہ کے کچھ اور ہوۓ نیلے
جب سایے میں آنے کی بچی نے رضا مانگی
بازار میں زینب۔۔۔
جو راہ میں چبھتے تھے عباس کی بہنوں کو
ان کانٹوں نے خود روکر مہدی سے سزا مانگی
بازار میں زینب۔۔۔
اپنے لئے دونوں نے امت سے نہ کچھ مانگا
زینب نے کفن مانگا سرور نے ردا مانگی
بازار میں زینب۔۔۔
احساس یتیمی پھر ہونے لگا زینب کو
جب غازی نے بی بی سے مرنے کی رضا مانگی
بازار میں زینب۔۔۔
ظالم نے طلب کی ہے وہ بچی کنیزی میں
شببر جو بیٹی تجھ سے اے خدا مانگی
بازار میں زینب۔۔۔
یا رب مجھے دکھلادے کیسی ہے میری صغرا
یہ آخری ہچکی میں اکبر نے دعا مانگی
بازار میں زینب۔۔۔
رکھدیتی ہاتھ اپنے ماں اپنے بچی کے ہونٹوں پر
جب بالی سکینہ نے مرنے کی دوا مانگی
بازار میں زینب۔۔۔
صغرا نے دعاؤں میں سجاد نہ کچھ مانگا
بعد علی اکبر جو مانگی تو قضا مانگی
بازار میں زینب۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.