Bhaiya ali akbar
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Hazrat Ali Akbar (a.s) recited by Raza Abbas Zaidi
بابا کی ضعیفی پہ نظر کر لو تو جاؤ
بھیا علی اکبر
جانے لگی مقتل کو جو اکبر کی سواری
کہرام بپا ہو گیا شہ کہتے تھے زاری
زینب نے جگر تھام لیا فرط علم سے
لپٹی ہوی دامن سے سکینہ یہ پکاری
ایسے نہیں جاؤ
آنکھوں میں چھپے اشک نہ تم ہم سے چھپاؤ
بھیا علی اکبر
بھیا تمہیں معلوم ہے بابا ہے اکیلے
ٹوٹی ہے کمر بابا کی صدمے سے چچا کے
اس درد کی شدت کو خدارا نہ بڑھاؤ
بھیا علی اکبر
ایسے نہیں جاؤ۔۔۔
مانگی تھی دعا ہم نے تو دن بیاہ کے آے
کیا خبر تھی تعبیر نے کیا رنگ دکھاے
مجھ پر نہ سہی ترس پھپھی جان پہ کھاؤ
بھیا علی اکبر
ایسے نہیں جاؤ۔۔۔
بابا سے نہیں رکتے تو میں کس طرح رکوں
ٹہرو زرا دم ناد علی سینے پہ کردوں
ہو سکتا ہے مشکل سے نکل کر چلے آؤ
بھیا علی اکبر
ایسے نہیں جاؤ۔۔۔
پھولوں کا نہیں اشکوں کا صحرا ہی سجالوں
صغرا کی طرف سے میں ارمان نکالوں
کیا کہدوں خط صغرا جو آے یہ بتاؤ
بھیا علی اکبر
ایسے نہیں جاؤ۔۔۔
اماں کی طرف دیکھ کے مانگو زرا رخصت
کھل جاے گی سینے میں ہے کتنی تیرے طاقت
سر اپنا جھکائے ہوے نظریں نہ چھڑاؤ
بھیا علی اکبر
ایسے نہیں جاؤ۔۔۔
میں جان گیء تم بھی نہ آؤ گے پلٹ کر
میں چھوٹی بہن ہوں میرے مانجاے برادر
بابا کی طرح سینے پہ ایک بار سن لو
بھیا علی اکبر
ایسے نہیں جاؤ۔۔۔
روتے ہوے مقتل کو روانہ ہوے اکبر
سانسوں کو سنبھالے ہوے پیچھے چلے سرور
آواز سکینہ تھی نہ بابا کو رلاؤ
بھیا علی اکبر
ایسے نہیں جاؤ۔۔۔
ریحان و رضا کیا وہ قیامت کا سماں تھا
جب سینۂ اکبر میں لگا ظلم کا نیزہ
کہتی تھی سکینہ میرے دل پہ لگا گھاؤ
بھیا علی اکبر
ایسے نہیں جاؤ۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.