Bete ke qatilon se
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Hazrat Ali Akbar (a.s) recited by Mir Hasan Mir
بیٹے کے قاتلوں سے ایک باپ پوچھتا ہے
کوئی مجھے بتا دے لاشہ کہاں پڑا ہے
اکبر میرا کہاں ہے
بیٹے کے قاتلوں سے۔۔۔
دل پر میری بہن کے خنجر چلا دیا ہے
کس نے ہمارے گھر کا سورج بجھا دیا ہے
دن میں اندھیرا میری آنکھوں میں ہوگیا ہے
اکبر میرا کہاں ہے
بیٹے کے قاتلوں سے۔۔۔
پیاسے کو بے وطن کو اتنا تو مت ستاؤ
چل چل کے تھک گیا ہوں لوگوں مجھے بتاؤ
اب اور کتنا باقی مقتل کا فاصلہ ہے
اکبر میرا کہاں ہے
بیٹے کے قاتلوں سے۔۔۔
غازی کو تم نے مارا میں چھپ رہا نہ بولا
اکبر کو مارا نیزہ میں چھپ رہا نہ بولا
تم سے سوال کرلوں اتنا تو حق میرا ہے
اکبر میرا کہاں ہے
بیٹے کے قاتلوں سے۔۔۔
ماں کو بغیر دیکھے بیٹا گزر نہ جائے
پہنچا دو مجھکو جلدی مظلوم مر نہ جائے
آواز آ رہی ہے وہ ہچکی لے رہا ہے
اکبر میرا کہاں ہے
بیٹے کے قاتلوں سے۔۔۔
خیمے سے جب چلا تھا کہتی تھی میری بہنا
پامال ہو نہ جائے اکبر کی لاش بھیا
کانوں میں میرے اب تک باقی وہی صدا ہے
اکبر میرا کہاں ہے
بیٹے کے قاتلوں سے۔۔۔
دل بیٹھا جا رہا ہے رکتے نہیں ہے آنسو
جنگل سے آ رہی ہے اس کے لہو کی خوشبو
کچھ سانسیں چل رہی ہے یا شیر چل بسا ہے
اکبر میرا کہاں ہے
بیٹے کے قاتلوں سے۔۔۔
اولاد مصطفیٰ سے کس طرح پھر گئے ہو
کڑیل جواں کا مرنا آساں سمجھ رہے ہو
تم لوگ ہنس رہے ہو دل میرا رو رہا ہے
اکبر میرا کہاں ہے
بیٹے کے قاتلوں سے۔۔۔
اہلِ حرم کی اکبر امید آخری ہے
کہتی ہے یہ ضعیفی میرا عصا یہی ہے
اب دو قدم بھی چلنا دشوار ہو گیا ہے
اکبر میرا کہاں ہے
بیٹے کے قاتلوں سے۔۔۔
غربت ہے اور تکلم ابنِ شہ نجف ہے
کوئی بولا اس طرف ہے کوئی بولا اس طرف ہے
آخر پکارے مولا غازی تمہیں پتہ ہے
اکبر میرا کہاں ہے
بیٹے کے قاتلوں سے۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.