Bemaar behen ka
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Hazrat Ali Akbar (a.s) recited by Ameer Hasan Aamir
یمار بہن کا خط بھای کو سنانا ہے
دشوار بہت لیکن سوتے سو جگانا ہے
رخ کر کے نجف کا یہ کہتے تھے شہ والا
دم توڑ نہ دے میری ڈھارس اے میرے بابا
طفلی کا ہر اک وعدہ مقتل میں نبھانا ہے
یمار بہن کا خط۔۔۔
سوچا بھی نہ تھا میں نے یہ وقت بھی آے گا
پھل برچھی کا سینے میں اکبر میرا کھاے گا
اور زخم علی اکبر قاصد سے چھپانا ہے
یمار بہن کا خط۔۔۔
اک باپ کے کاندھوں پہ بیٹے کا جنازہ ہو
اور اس سے بڑا غم بھی دنیا میں کوئی کیا ہو
تقدیر کے لکھے کو دشوار مٹانا ہے
یمار بہن کا خط۔۔۔
کیا لکھا ہے صغرا نے پڑھلے اے میرے دلبر
یہ خط تیرے لاشے سے بھاری ہے علی اکبر
کس طرح سنبھالوں میں یہ تجھکو بتانا ہے
یمار بہن کا خط۔۔۔
تنہائی کا عالم میں وہ سوچ رہی ہو گی
اکبر نے کہیں اپنی شادی تو نہیں کر لی
معلوم کہاں اسکو پھل برچھی کا کھانا ہے
یمار بہن کا خط۔۔۔
میں خود کو سنبھالوں یا اس خط کو پڑھوں اکبر
یا تیرے کلیجے کو میں خط پہ رکھوں اکبر
خیمے سے ابھی مجھکو اصغر کو بھی لانا ہے
یمار بہن کا خط۔۔۔
لاشے کو تیری کیسے میں خیمے میں لے جاؤں
جس نے تجھے پالا ہے یا اسکو یہی لاؤں
لوں کس کی مدد بیٹا دشمن یہ زمانہ ہے
یمار بہن کا خط۔۔۔
جن ہاتھوں نے کل تیرے جھولے کو جھلایا تھا
سینے سے لگایا تھا گودی میں بٹھایا تھا
ان ہاتھوں سے اب تیرا لاشہ بھی اٹھانا ہے
یمار بہن کا خط۔۔۔
عباس چلے آؤ سرور کو سہارا دو
کچھ دیر بھتیجے کا آغوش میں سر رکھ لو
یہ وقت کہاں آخر پھر لوٹ کے آنا ہے
یمار بہن کا خط۔۔۔
آصف خط صغرا کو سرور نے پڑھا ہوگا
اکبر نے خدا جانے کس طرح سنا ہو گا
عامر تجھے دنیا کو احساس دلانا ہے
یمار بہن کا خط۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.