Bazaar may beparda
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Shaam recited by Shahid Baltistani
سیدہ طاہرہ
وا حجابا وا غربتا
بازار میں بے پردہ نبی زادی کھڑی ہے
ہر موڑ پہ مرنے کی دعا مانگ رہی ہے
ہے ہاتھوں میں پتھر ابھی آئی نہیں زینب
بازار میں پہلے سے ہی اک بھیڑ لگی ہے
بازار میں بے پردہ۔۔۔
اس غم کی اذیت کوئی سجاد سے پوچھے
بچپن میں سکینہ کی کمر کیسے جھکی ہے
بازار میں بے پردہ۔۔۔
بازار سے لگتا ہے گزرتے ہیں جنازے
خاموش ہر ایک بی بی ہے مرنے کی کمی ہے
بازار میں بے پردہ۔۔۔
ہے آخری منزل اسے دربار نہ سمجھو
مقتل کی طرف شاہ کی ہمشیر چلی ہے
بازار میں بے پردہ۔۔۔
تسبیح کے دانوں کی طرح اک رسن میں
ہر عمر کی زہرا ہے جو پابند کھڑی ہے
بازار میں بے پردہ۔۔۔
نام آتا ہے زینب کا شرابی کی زباں پر
سجاد کی غیرت پہ قیامت کی گھڑی ہے
بازار میں بے پردہ۔۔۔
خوں رونے کو قیام کے یہ کافی ہے تکلم
زینب کی طرف دیکھ کے دنیا یہ ہنسی ہے
بازار میں بے پردہ۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.