Batlao mar gayi
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Hazrat Ali Akbar (a.s) recited by Shadman Raza
یہ کون ہے جواں
اکبر کے سر کو دیکھ کے نیزے کی نوک پر
ہر کوئی پوچھتا تھا یہ عابد کو روک کر
بتلاؤ مر گیء ہے یا زندہ ہے اس کے ماں
آنکھوں کو اپنے بند کیےء ہے یہ ذی ہشم
بازار میں جو آے ہیں بے پردہ کچھ حرم
کیا اس کی رشتہ دار ہے یہ ساری بی بیاں
بتلاؤ مر گیء۔۔۔
بے رحم اس کو مارنے والا تھا کس قدر
سوکھی گلے کی رگیں ہے جو اس قدر
مرنے سے پہلے کب سے یہ پیاسا تھا نوجواں
بتلاؤ مر گیء۔۔۔
منظر یہ غم کا دیکھ کے دل خون روتا ہے
کچھ یاد کر رہی ہے یہ محسوس ہوتا ہے
ایک بی بی اس کو تکتی ہے ہوتی ہے جب اذاں
بتلاؤ مر گیء۔۔۔
کیا دشمنی کسی کی تھی ایسے حسیں سے
تھامے جگر زمین پہ آیا تھا زین سے
سنتے ہے اس کے سینے میں توڑی گیء سناں
بتلاؤ مر گیء۔۔۔
سینے سے نیزہ ظلم کا نکلا ہے کس طرح
دم نوجواں نے خاک پہ توڑا ہے کس طرح
ماں نے نہ اس کی دیکھا ہو غربت کے یہ سماں
بتلاؤ مر گیء۔۔۔
پھولوں کا سہرا سر پہ سجانے کی عمر تھی
یہ تو جواں کو دولہا بنانے کی عمر تھی
جانا کہا تھا موت اسے لے گیء کہاں
بتلاؤ مر گیء۔۔۔
ہے گرد میں غریب کے گیسوں اٹے ہوئے
تلواروں سے ستم کی ہے ابرو کٹے ہوئے
کیا ظلم اس پہ ٹوٹا ہے چہرے سے ہے عیاں
بتلاؤ مر گیء۔۔۔
لیلیٰ کو دیکھا اور کبھی اکبر پہ کی نظر
خاموش تھے وہ میر تکلم جھکائے سر
سجاد اس سوال پہ روتے تھے شادماں
بتلاؤ مر گیء۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.